سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی امریکی صدر کے ’غزہ منصوبے‘ کی حمایت
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ بندی کے لیے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی ورلڈ‘ کی رپورٹ کے مطابق ترجمان سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انتونیو گوتیرس غزہ اور خطے میں جنگ بندی اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
عرب اور مسلم ممالک کے ’اہم کردار’ کو سراہتے ہوئے انتونیو گوتیریس نے کہا کہ ’اب یہ نہایت ضروری ہے کہ تمام فریقین کسی معاہدے اور اس کے نفاذ کے لیے پُرعزم ہوں۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ ہماری ترجیح اس جنگ سے پیدا ہونے والی شدید تکالیف کو کم کرنا ہونا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی، تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے دو ریاستی حل کے حصول کے لیے حالات سازگار ہوں گے۔
واضح رہے کہ 29 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبہ پیش کرتے ہوئےکہا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو غزہ تنازع کے خاتمے کے معاہدے پر متفق ہونے کے ’انتہائی قریب‘ ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’بہت بڑا‘ دن ہے، ہم غزہ امن معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف صرف غزہ پٹی ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر حماس نے اسے قبول کر لیا تو اس تجویز میں تمام باقی ماندہ یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، لیکن کسی صورت بھی 72 گھنٹوں سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے‘۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’منصوبے کے تحت، عرب اور مسلم ممالک نے غزہ کو تیزی سے غیر مسلح کرنے، حماس اور دیگر تمام تنظیموں کی فوجی صلاحیت ختم کرنے کا وعدہ کیا، معاہدے کے ایک حصے کے طور پر سرنگیں اور اسلحہ بنانے کی تنصیبات ختم اور غزہ پٹی میں مقامی پولیس فورس کو تربیت دی جائے گی۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’غزہ میں نئی عبوری اتھارٹی کے ساتھ کام کرتے ہوئے، تمام فریق اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک ٹائم لائن پر متفق ہوں گے۔
’اگر حماس نے معاہدہ مسترد کر دیا، جو ممکن ہے، اور مجھے احساس ہے کہ ہمیں ایک مثبت جواب ملے گا، لیکن اگر نہیں تو پھر نیتن یاہو کو میرا مکمل تعاون ہوگا کہ وہ جو کرنا چاہیں کریں‘۔