پاکستان

مسابقتی کمیشن نے پی ٹی سی ایل اور ٹیلی نار کے انضمام کی منظوری دے دی

پی ٹی سی ایل نے باضابطہ طور پر ان شرائط و ضوابط کو قبول کر لیا ہے جو ٹیلی نار کے 40 ارب ڈالر کے حصول کیلئے طے کیے گئے تھے، جلد باضابطہ اعلان متوقع

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (پی ٹی سی ایل) کے پالیسی بورڈ نے پاکستان میں ٹیلی نار کے ساتھ انضمام کے لیے مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) کی مقرر کردہ شرائط و ضوابط کو قبول کر لیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی سی ایل نے باضابطہ طور پر ان شرائط و ضوابط کو قبول کر لیا ہے، جو ٹیلی نار کے 40 ارب ڈالر کے حصول کے لیے طے کیے گئے تھے، اس حوالے سے جلد باضابطہ اعلان متوقع ہے۔

اس پیش رفت کے بعد سی سی پی کے لیے اس تاریخی انضمام پر اپنا فیصلہ جاری کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے، جو 18 ماہ سے زیر التوا تھا۔

انضمام کے بعد یوفون-ٹیلی نار-پاکستان کا حجم تقریباً جاز کے برابر ہو جائے گا اور زونگ پیچھے رہ جائے گا۔

تاخیر کی 2 بڑی وجوہات تھیں جن میں یو اے ای کی ٹیلی کام کمپنی کی جانب سے 80 کروڑ ڈالر کی واجب الادا رقم اور پی ٹی سی ایل کی جانب سے سی سی پی کو سرمایہ کاری کا منصوبہ جمع کرانا، یہ رقم جب پی ٹی آئی حکومت میں تھی، اس وقت مذاکرات کے بعد کم ہو کر 65 کروڑ ڈالر کر دی گئی تھی۔

دوسری رکاوٹ سرمایہ کاری کے مستقبل کا منصوبہ سی سی پی میں جمع کرانے سے متعلق تھی۔

ایک عہدیدار نے تسلیم کیا کہ انضمام کے بعد پی ٹی سی ایل کی یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے ملاپ سے ایک بڑا ادارہ وجود میں آئے گا، جس سے غالب حیثیت کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

سی سی پی نے یہ بھی خدشات ظاہر کیے تھے کہ انضمام کے بعد پی ٹی سی ایل کی جانب سے اجارہ داری کے غلط استعمال میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، سی سی پی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ مشروط منظوری کا فریم ورک ان خطرات کو کم کرنے میں مدد دے گا جس میں قیمتوں کے تعین، انٹرکنیکشن، انفرااسٹرکچر شیئرنگ اور منصفانہ مسابقت سے متعلق حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے۔

عہدیداران کے مطابق سی سی پی پر اس منظوری کو تیز کرنے کے لیے سیاسی اور کارپوریٹ دباؤ بھی موجود تھا۔