پاکستان

اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی بڑھتی تعداد سے شہری پریشان، اعلیٰ حکام سے کارروائی کا مطالبہ

وفاقی دارالحکومت کے کئی علاقوں میں آوارہ کتے اکثر جھنڈ کی شکل میں گھومتے اور شہریوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، جن میں سے اکثریت بچوں اور بزرگ افراد کی ہے۔

اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز کے رہائشیوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیےکوششیں تیز کریں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’ اے پی پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آوارہ کتوں کےکاٹنے کے واقعات اور ریبیز کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ مسئلہ غیر متعین افزائش، ناقص کوڑا کرکٹ مینجمنٹ اور ناکافی ویکسینیشن یا نس بندی کے اقدامات کی کمی کے باعث پیدا ہوا ہے۔

حکام کی جانب سے کتوں کو مارنے کے عمل پر جانوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیموں نے تنقید کی ہے، تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے انسانی بنیادوں پر مشتمل مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے، جس میں ویکسینیشن، نس بندی اور عوامی آگاہی شامل ہو۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق شہریوں نے بتایا کہ اسلام آباد کے کئی علاقے، بشمول جی 16، جی 10، آئی 8 اور ایف 11 سیکٹر اور اطراف کے علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اکثر جھنڈ کی شکل میں گھومتے اور شہریوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کتوں کے کاٹنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے، جس میں بچے اور بزرگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

سیکٹر جی 6 کے رہائشی ریاض نارو کو کچھ عرصہ قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹ لیا تھا، انہوں نے اس حوالے سے کہا کہ یہ معاملہ کافی پریشانی کا سبب بن رہا ہے، حکام کو فوری طور پر انسانی بنیادوں پر مؤثر آبادی کنٹرول اقدامات، آوارہ جانوروں کی ویکسینیشن اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کرنی چاہیے۔

رہائشیوں نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، اسلام آباد میٹروپولیٹن کارپوریشن (ایم سی آئی) اور ضلعی صحت کے حکام سے فوری اور مربوط کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ بڑے پیمانے پر نس بندی اور ویکسینیشن مہم اور آوارہ کتوں کے لیے مخصوص پناہ گاہوں کا قیام عوامی صحت کی ترجیحات اور جانوروں کی فلاح کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

دوسری جانب، سی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ میونسپل کارپوریشن اسلام آباد اور سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں سے متعلق بڑھتی ہوئی شکایات کے ازالے اور روک تھام کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔

گزشتہ ہفتے وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے شہریوں کی بڑھتی شکایات کے پیشِ نظر ایم سی آئی اور سی ڈی اے کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔

جس کے بعد سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی مشترکہ ٹیموں نے کارروائی شروع کی، جس میں عوامی شکایات کے اندراج اور ان کے حل کا عمل تیز کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق شہری ہیلپ لائن 1334 پر کال کر کے اپنی شکایات درج کروا سکتے ہیں جب کہ ترمڑی میں قائم اسٹرے ڈاگ سینٹر میں انتظامات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، جہاں پکڑو، نس بندی کرو، ویکسین لگاؤ اور چھوڑ دو کا طریقہ اپنایا جا رہا ہے۔

اس طریقے کے تحت آوارہ کتوں کو پکڑ کر ان کی نس بندی، ویکسینیشن کی جاتی ہے اور پھر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

سی ڈی اے ریکارڈ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے درمیان مختلف مارکیٹوں، رہائشی سیکٹرز اور دیہی علاقوں سے موصول ہونے والی سینکڑوں شکایات پر کارروائی کی گئی، اس دوران 550 سے زائد آوارہ کتوں کو اسٹرے ڈاگ سینٹر منتقل کیا گیا۔

ایم سی آئی انتظامیہ نے کہا ہے کہ تمام شکایات پر بروقت کارروائی کی جا رہی ہے اور اسٹرے ڈاگ سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔