سنگجانی حملہ کیس: عمر ایوب، وقاص اکرم اور زرتاج گل کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) اسلام آباد نے سنگجانی ریلی سے کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں عمر ایوب، زرتاج گل اور شیخ وقاص اکرم کے قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔
تفصیلات کے مطابق اے ٹی سی اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرہ نے سنگجانی ریلی کیس سے متعلق کیس کی سماعت کی، جہاں پی ٹی آئی رہنماؤں کے وکلا سردار مصروف خان، آمنہ علی اور مرتضیٰ توری پیش ہوئے۔
جج طاہر عباس سپرہ نے عمر ایوب کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی اب تک عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
بعد ازاں، عدالت نے تینوں پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری اور انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
پارلیمنٹ میں رات گئے گرفتاریاں
خیال رہے کہ 8 ستمبر 2024 کو پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنگجانی مویشی منڈی میں جلسے کا انعقاد کیا تھا جس میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔
تاہم شام 7 بجے کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے این او سی کی خلاف ورزی پر پی ٹی آئی قیادت کو جلسہ فوری ختم کرنے اور جلسہ گاہ خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
بعد ازاں، 9 اور 10 ستمبر کو اسلام آباد کے مختلف علاقوں، بشمول پارلیمنٹ ہاؤس سے پی ٹی آئی کے کم از کم 10 ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار کیا گیا۔
صبح تقریباً 3 بجے، سادہ لباس اہلکاروں نے پارلیمنٹ ہاؤس پر دھاوا بولا، بجلی کی فراہمی منقطع کی اور سروسز برانچ کے حصے میں داخل ہو کر پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کو گرفتار کر لیا۔
سنگجانی ریلی کے دوران مبینہ تشدد کے الزام میں گرفتار کیے گئے رہنماؤں میں عمر ایوب، شیخ وقاص اکرم، شیر افضل مروت، زرتاج گل، ملک عامر ڈوگر، احمد چٹھہ، زین قریشی، زبیر خان وزیر، اویس حیدر جاکھر، سید شاہ احد علی شاہ، نسیم علی شاہ اور یوسف خان خٹک شامل تھے۔
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں شیر افضل مروت، عامر ڈوگر، زین قریشی، نسیم شاہ، احمد چٹھہ و دیگر رہنماؤں کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے شعیب شاہین کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
10 ستمبر کو اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے سے اراکین پارلیمنٹ کی گرفتاری پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس کی سرزنش کی اور انہیں فوری رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
12 ستمبر کو اسلام آباد پولیس نے 8 ستمبر کے جلسے کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور حامیوں کے خلاف سنگجانی تھانے میں درج دہشت گردی کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 13 ستمبر 2024 کو پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد چند دنوں میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔