دنیا

اسرائیلی کابینہ نے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی توثیق کردی

معاہدے کی توثیق کے بعد 24 گھنٹے کے اندر جنگی کارروائیاں روکی جائیں گی اور اس کے 72 گھنٹے بعد یرغمالی رہا ہوں گے، حکومت نے تمام یرغمالیوں کی رہائی کے فریم ورک کی منظوری دیدی، نیتن یاہو

اسرائیلی حکومت نے جمعے کو فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق کر دی، جس کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر غزہ میں جنگی کارروائیاں روکنے اور اس کے 72 گھنٹے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے جمعے کی صبح یہ معاہدہ منظور کیا، جبکہ اس سے تقریباً 24 گھنٹے قبل ثالثوں نے اس پر اتفاق کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ منصوبے کے تحت اسرائیلی فوج کی تدریجی واپسی شامل ہے تاکہ دو سال سے جاری غزہ کی جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے انگریزی زبان کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر کہا گیا کہ ’حکومت نے تمام یرغمالیوں، زندہ اور مردہ، کی رہائی کے فریم ورک کی منظوری دے دی ہے‘۔

یہ جنگ اسرائیل کی عالمی سطح پر تنہائی کا باعث بنی اور مشرق وسطیٰ کے منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا، کیونکہ یہ ایک علاقائی تنازع میں تبدیل ہو چکی تھی جس میں ایران، یمن اور لبنان بھی شامل ہو گئے تھے، اس لڑائی نے امریکا اور اسرائیل کے تعلقات کو بھی سخت آزمائش میں ڈال دیا، کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان پر معاہدہ طے کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا۔

معاہدے کے اعلان کے بعد اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں نے خوشی کا اظہار کیا، جو 2 سالہ جنگ کے خاتمے کی سب سے بڑی پیش رفت ہے، جس میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، اور اس سے ان آخری یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہوگی جنہیں حماس نے ان حملوں کے دوران پکڑا تھا جن کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔

حماس کے جلاوطن رہنما خلیل الحیہ نے کہا کہ انہیں امریکا اور دیگر ثالثوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے۔

اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جنگ بندی حکومت کی منظوری کے 24 گھنٹے کے اندر نافذ ہو جائے گی، اور اس کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر غزہ میں موجود یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔

اب بھی 20 اسرائیلی یرغمالیوں کے زندہ ہونے کا یقین ہے، جب کہ 26 کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے، اور دو کے بارے میں کچھ معلوم نہیں، حماس کا کہنا ہے کہ لاشوں کی واپسی زندہ قیدیوں کی رہائی سے زیادہ وقت لے سکتی ہے۔

معاہدے کے نافذ ہوتے ہی امدادی ٹرک خوراک اور طبی سامان لے کر غزہ میں داخل ہوں گے تاکہ ان عام شہریوں کی مدد کی جا سکے جن میں سے لاکھوں اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے اور خیموں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، کیونکہ اسرائیلی افواج نے ان کے شہر صفحۂ ہستی سے مٹا دیے تھے۔

رکاوٹیں اب بھی برقرار ہیں

اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہوگیا تو یہ دونوں فریقین کو جنگ روکنے کی کسی بھی سابقہ کوشش کے مقابلے میں کہیں زیادہ قریب لے آئے گا۔

تاہم ابھی بھی بہت کچھ غلط ہو سکتا ہے، معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد بھی ایک فلسطینی ذریعے نے بتایا کہ رہائی پانے والے سیکڑوں فلسطینیوں کی فہرست حتمی شکل نہیں دی گئی، حماس کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید ممتاز فلسطینی قیدیوں اور اسرائیلی حملے کے دوران گرفتار کیے گئے سیکڑوں افراد کو آزاد کیا جائے۔

ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی منصوبے کے مزید مراحل پر ابھی بات نہیں ہوئی، ان میں یہ معاملات شامل ہیں کہ لڑائی ختم ہونے کے بعد تباہ حال غزہ کی پٹی پر حکومت کیسے کی جائے گی اور حماس کا حتمی مستقبل کیا ہوگا، جس نے اب تک اسرائیل کے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔

نیتن یاہو کو اپنی حکومتی اتحادی جماعتوں کے اندر سے بھی شکوک و شبہات کا سامنا ہے، کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ طویل عرصے سے حماس کے ساتھ کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرتے آئے ہیں، انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ اگر حماس کو ختم نہ کیا گیا تو وہ حکومت گرانے کے لیے ووٹ دیں گے۔

تاہم جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی کے اعلان کا عوام نے خوشی سے استقبال کیا۔

پورا غزہ خوش ہے

جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں عبدالمجید عبدربہ نے کہا کہ ’جنگ بندی پر خدا کا شکر ہے، خونریزی اور قتل و غارت کے خاتمے پر خدا کا شکر ہے، پورا غزہ خوش ہے، تمام عرب عوام خوش ہیں، پوری دنیا جنگ بندی اور خون بہنے کے خاتمے پر خوش ہے‘۔

تل ابیب کے نام نہاد ’یرغمالی چوک‘ میں عیناف زاؤگاؤکر، جن کا بیٹا ماتان ان آخری یرغمالیوں میں شامل ہے، خوشی سے جھوم اٹھیں، اس چوک میں ان خاندانوں نے دو سال سے ڈیرے ڈال رکھے تھے جن کے پیارے حماس کے حملے میں یرغمال بنائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہی، میں اپنے احساسات بیان نہیں کر سکتی‘۔

غزہ میں جنگ بندی کے باضابطہ آغاز سے پہلے بھی اسرائیلی حملے جاری رہے، لیکن شہادتوں کی تعداد ان سیکڑوں کے مقابلے میں کہیں کم تھی جو حالیہ ہفتوں میں روزانہ مارے جا رہے تھے، مقامی صحت کے حکام کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 7 افراد جاں بحق ہوئے۔

ٹرمپ کا خطے کا دورہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اتوار کو مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے اور ممکنہ طور پر مصر میں ہونے والی دستخطی تقریب میں شریک ہوں گے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ کے اسپیکر امیر اوہانا نے انہیں پارلیمنٹ سے خطاب کی دعوت دی ہے، جو 2008 کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلا خطاب ہوگا، اس معاہدے کو عرب اور مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہوئی ہے اور اسے ٹرمپ کی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو گیا تو یہ ریپبلکن صدر ٹرمپ کے لیے ایک اہم کامیابی ہوگی، جنہیں اب تک غزہ کے تنازع اور یوکرین پر روسی حملے کے خاتمے کے وعدوں کو تیزی سے پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

امریکا غزہ میں استحکام کیلئے 200 فوجی تعینات کرے گا

امریکی حکام کے مطابق امریکا غزہ میں استحکام کے لیے قائم مشترکہ ٹاسک فورس کے طور پر 200 فوجی تعینات کرے گا، تاہم کوئی امریکی فوجی فلسطینی علاقے میں موجود نہیں ہوگا، دو سینئر امریکی حکام نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ یہ 200 اہلکار اس ٹاسک فورس کا بنیادی حصہ ہوں گے، جس میں مصر کی فوج، قطر، ترکیہ اور غالباً متحدہ عرب امارات کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

اسرائیل کے غزہ پر حملے میں اب تک 67 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیر قیادت جنگجوؤں نے اسرائیلی قصبوں اور ایک موسیقی کے تہوار پر دھاوا بول دیا تھا، جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔