پاکستان

زیر سمندر کیبل کی مرمت، انٹرنیٹ سروس آج 18 گھنٹے تک سست رہے گی

بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کے تحت زیر سمندر میں خرابی دور کی جائے گی، رات تک سروس میں خلل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، پی ٹی سی ایل نے آگاہ کردیا۔

انٹرنیٹ صارفین، جو پہلے ہی بالائی پنجاب اور وفاقی دارالحکومت کے کچھ علاقوں میں سیاسی نوعیت کے امن و امان کے مسائل کے باعث سروس میں خلل کا سامنا کر رہے ہیں، آج مزید سست رفتار انٹرنیٹ کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے کہا ہے کہ کمپنی کی ایک زیرِ سمندر کیبل میں موجود خرابی کو دور کرنے کے لیے مرمت کے کام کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو کہ بین الاقوامی کیبل کنسورشیم کے تحت انجام دی جائے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمی 14 اکتوبر کو صبح 11 بجے کے قریب شروع ہوگی اور ممکن ہے کہ 18 گھنٹے تک جاری رہے، اس دوران صارفین کو انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم، کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کس زیرِ سمندر کیبل سسٹم پر کام کیا جا رہا ہے۔

انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی ملک کے تمام موبائل اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں کو متاثر کرے گی۔

سرکاری ملکیت والی پی ٹی سی ایل 3 زیرِ سمندر فائبر آپٹک کیبل نیٹ ورکس کی نگرانی کرتی ہے، جو پاکستان کو بین الاقوامی انٹرنیٹ سے منسلک رکھتے ہیں۔

ملک کو خدمات فراہم کرنے والے تمام 6 زیرِ سمندر کیبل سسٹمز ، جن میں پی ٹی سی ایل کے 3 نظام ٹرانس ورلڈ ایسوسی ایٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے 2 نظام، اور سائبر انٹرنیٹ سروسز کی پیس کیبل کی مجموعی گنجائش 13 ٹیرا بٹس فی سیکنڈ (ٹی بی پی ایس) ہے، جب کہ قومی انٹرنیٹ کا استعمال اس وقت 7 سے 8 ٹیرا بائٹس فی سیکنڈ کے درمیان ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ زیرِ سمندر کیبل نیٹ ورکس میں ہمیشہ 30 سے 40 فیصد اضافی گنجائش برقرار رکھنی چاہیے، تاکہ کسی بھی نظام میں خرابی یا تعطل کی صورت میں انٹرنیٹ ٹریفک کو فوری طور پر منتقل کیا جا سکے۔

دوسری جانب، موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی طلب اور متوقع ’فائیو جی‘ سروسز کے آغاز کے پیشِ نظر پاکستان نے اے اے ای-2 زیرِ سمندر کیبل سسٹم میں شمولیت کا معاہدہ کر لیا ہے، یہ منصوبہ 2025 کے آخر تک پاکستان کے نیٹ ورک سے منسلک ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کی مجموعی انٹرنیٹ گنجائش 14 ٹیرا بائٹس فی سیکنڈ تک بڑھ جائے گی۔

ایمازون کا پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ پروجیکٹ ’کائپر‘ متعارف کرانے کا ارادہ

پاکستان میں اسٹار لنک سروس کے آغاز کی تیاریاں، ایلون مسک کی تقریب میں شرکت متوقع

پاکستان اسپیکٹرم کی کمی کا شکار، پی ٹی اے نے ’فائیو جی نیلامی کو لازمی قرار دے دیا