حکومت کا پی پی آر اے قانون میں ترمیم کا فیصلہ، ٹینڈرز کی تھرڈ پارٹی نگرانی لازمی قرار
وفاقی اور صوبائی سطح پر خریداری کے نظام میں شفافیت بڑھانے اور بدعنوانی کے امکانات کم کرنے کے لیے حکومت نے پبلک پراکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) قانون میں اہم ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے، جن کے تحت ٹینڈرز کی مسلسل تھرڈ پارٹی نگرانی لازمی قرار دی جائے گی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی اور صوبائی خریداریوں کے حوالے سے مسلسل شکایات کے پیش نظر حکومت پبلک پراکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) آرڈیننس اور اس کے ماتحت قواعد میں ترمیم کرنے جا رہی ہے، تاکہ ٹینڈرز کی مسلسل تھرڈ پارٹی نگرانی لازمی کی جائے اور ایک آزاد شکایات کے ازالے کا نظام قائم کیا جائے، جس کا مقصد شفافیت اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہے۔
پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر حسنات احمد قریشی نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ یہ ترامیم، جو وزیراعظم کے وژن برائے شفافیت، کارکردگی اور اچھی حکمرانی کے مطابق تیار کی گئی ہیں، حتمی شکل اختیار کر چکی ہیں اور کابینہ کمیٹی برائے قانونی معاملات (سی سی ایل سی) سے باقاعدہ کابینہ کی منظوری کے لیے منظور ہو گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترامیم چند تعریفی امور اور چار یا پانچ نظامی بہتریوں سے متعلق ہیں، نظر ثانی شدہ پی پی آر اے رولز 2025 منظوری کے آخری مراحل میں ہیں، نئے قواعد میں ایک آزاد شکایات کے ازالے کا نظام، گیلپ ٹینڈرنگ، کم جوابی وقت، ماہرین کی تصدیق، تھرڈ پارٹی جائزے اور خریداری کرنے والے اداروں کے لیے واضح کردار شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے خریداری کرنے والے اداروں میں تربیت یافتہ پیشہ ور افراد پر مشتمل پراکیورمنٹ سیلز بھی قائم کی جا رہی ہیں تاکہ منصوبہ بندی، مارکیٹ تجزیہ، بولی کی تیاری اور معاہدے کے انتظام کی نگرانی کی جا سکے۔
پی پی آر اے کے سربراہ نے کہا کہ نئے آرڈیننس اور قواعد کے ذریعے قانون میں کی جانے والی تبدیلیوں سے جوابدہی بہتر ہوگی، جس سے عوامی پیسے کے ضائع ہونے اور چوری کے امکانات کم ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ شفافیت سب سے بڑا چیلنج ہے اور موجودہ کمزور نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ نہیں چاہتے کہ یہ خامیاں ختم ہوں۔
انہوں نے پراکیورمنٹ اداروں کی جانب سے پی پی آر اے قوانین سے بچنے کے لیے خودمختاری اور ڈونر فنڈنگ کے حوالے سے عام بہانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی چھوٹ نہیں ہے، چاہے ادارہ تخلیق کے وقت ایک روپے سے بھی کام کر رہا ہو، جب کہ عوام کو غیر ملکی قرضوں اور امداد کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے، غیر معمولی حالات میں ایسی چھوٹ حکومت کی جانب سے واضح معیارات کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔
حسنات احمد قریشی نے کہا کہ ملک کے عوامی خریداری کے نظام میں پہلے ہی تبدیلی آ رہی ہے، جس میں ای-پراکیورمنٹ سسٹم کا تعارف، جاری ریگولیٹری اصلاحات اور خریداری کے پیشہ ور افراد کے لیے مضبوط صلاحیت سازی پروگرام شامل ہیں، جن کے تحت پی پی آر اے خریداری کرنے والے اداروں کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔
انہوں نے خریداری کی اصلاح کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں عوامی خریداری جی ڈی پی کا 15 سے 20 فیصد ہے، جب کہ عالمی سطح پر خریداری کی مالیت تقریباً 13 کھرب ڈالر ہے۔
پی پی آر اے کے سربراہ نے مزید کہا کہ دستی خریداری کے نظام میں کارکردگی کی کمی اور لیکجز کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جب کہ ای-پراکیورمنٹ سے تقریباً 25 فیصد تک بچت ممکن ہے، جیسا کہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) نے رپورٹ کیا ہے۔
پی پی آر اے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مرکز میں ای-پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پی اے ڈی ایس) کا نفاذ ہے، جو ایک مکمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے، جس میں مفت سپلائر رجسٹریشن، ریئل ٹائم الرٹس، حسب ضرورت بولی کے دستاویزات، متحرک بولی تشخیص اور خریداری کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن شامل ہے۔
حسنات احمد قریشی نے بتایا کہ مارچ 2023 میں لانچ کے بعد ای پی اے ڈی ایس 9 ہزار 314 وفاقی اور صوبائی خریداری کرنے والے اداروں میں متعارف کرایا جا چکا ہے، جن میں اہم وزارتیں اور محکمے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی پی آر اے نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور وفاقی اداروں بشمول نادرا، ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں تاکہ ریئل ٹائم ڈیٹا انٹیگریشن اور ریگولیٹری تعمیل کو سہل بنایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 39 ہزار 553 سپلائرز، جن میں 527 غیر ملکی کمپنیاں، ایک ہزار 792 خواتین کی قیادت میں چلنے والے ادارے اور 4 ہزار 44 چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے ’ای پی اے ڈی ایس‘ پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔