چارسدہ: 8 سالہ بچی ریپ کے بعد قتل، لاش کھیتوں سے برآمد
خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کی تحصیل تنگی کے علاقے عمر خان کلی گندھیری میں ایک کمسن بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد گلا گھونٹ کر قتل کر دیا گیا۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق تنگی پولیس کا کہنا ہے کہ 8 سالہ بچی کے والد اکبر علی نے بتایا کہ اس کی دو بیٹیاں بھٹو کلی کے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کرتی تھیں، ان کے مطابق ’واقعے کے روز دونوں بہنیں مغرب کی نماز کے بعد مدرسے سے نکلیں اور اپنی خالہ کے گھر دودھ لینے گئیں، وہاں اس وقت دودھ دستیاب نہیں تھا تو 11 سالہ بڑی بیٹی واپس گھر چلی آئی جبکہ چھوٹی بیٹی وہیں رک گئی‘۔
اکبر علی نے بتایا کہ جب چھوٹی بیٹی دیر تک واپس نہ آئی تو گھر والے پریشان ہو گئے اور خالہ کے گھر پہنچے، خالہ نے بتایا کہ وہ دودھ لے کر گھر کے لیے نکل چکی ہے، جس پر اہلِ خانہ نے بچی کی تلاش شروع کر دی۔
کچھ دیر بعد اطلاع ملی کہ بچی کی لاش قریبی کھیتوں سے برآمد ہوئی ہے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی، حکام کے مطابق نامعلوم شخص نے بچی کا ریپ کرنے کے بعد گلا دبا کر قتل کیا۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تنگی منتقل کر دیا گیا، جہاں ابتدائی طبی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ بچی کے ساتھ ریپ کیا گیا تھا۔
ضلعی پولیس افسر محمد وقاص خان نے واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن عالم زیب خان کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ملزم کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔
ڈی پی او نے مقتولہ کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ملزم کو بہت جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔
دوسری جانب بچی کے جنازے میں شریک افراد نے خبردار کیا کہ اگر 3 روز کے اندر ملزم گرفتار نہ ہوا تو وہ ڈی پی او کے دفتر کے باہر دھرنا دیں گے۔