توشہ خانہ 2 کیس میں وکیل صفائی کے حتمی دلائل مکمل، سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی و سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس میں وکیل صفائی کے حتمی دلائل مکمل ہوگئے، جبکہ سماعت 29 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف توشہ خانہ 2 کیس کی سماعت اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران عمران خان اور بشری بی بی کو جیل سے کمرہ عدالت پیش کیا گیا، اس موقع پر عمران خان کی بہنیں، بہنوئی سہیل خان، نوشیروان برکی بھی عدالت میں موجود تھے۔
دوران سماعت وکیل صفائی سلمان صفدر کے حتمی دلائل مکمل ہوگئے، آئندہ سماعت پر پراسیکیوشن اور وکلا صفائی مزید حتمی دلائل دیں گے۔
سماعت کے دوران پی ٹی آئی کی سینیٹر مشال یوسفزئی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، اور جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا بھی عدالت موجود تھے۔
سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے سلمان صفدر، قوسین فیصل، ظہیر عباس چویدری اور عثمان گل پیش ہوئے جبکہ پراسیکیوشن کی جانب سے بلال بٹ اور شہروز گیلانی نے پیروی کی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ہونے والی سماعت کے دوران 2 وکلاء صفائی کے دلائل مکمل ہوئے تھے۔
پس منظر
یاد رہے کہ 12 ستمبر 2024 کو توشہ خانہ 2 کیس کی تحقیقات کے لیے ایف آئی اےکی 3 رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔
نیب ترامیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احتساب عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو ریفرنس نیب سے ایف آئی اے کو منتقل کر دیا تھا۔
قبل ازیں، عدالت نے توشہ خانہ 2 ریفرنس کا ریکارڈ اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
13 جولائی کو نیب نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کو عدت نکاح کیس میں ضمانت ملنے کے فوری بعد توشہ خانہ کے ایک نئے ریفرنس میں گرفتار کرلیا تھا۔
نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق نیا کیس 7 گھڑیوں سمیت 10 قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے۔
بشریٰ بی بی کو 31 جنوری 2024 کو توشہ خانہ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی،احتساب عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے بعد بشریٰ بی بی نے خود جیل جاکر گرفتاری دی تھی ۔
سابق خاتون اول کی گرفتاری کےبعد کمشنر اسلام آباد نے بنی گالا میں واقع سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا تھا جس کے بعد بشریٰ بی بی کو بنی گالا منتقل کردیا گیا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس میں سزا معطل کردی تھی لیکن نیب نے توشہ خانہ کیس ٹو میں انہیں 13 جولائی 2024 کو دوبارہ گرفتار کرلیا تھا۔
3 فروری 2024 کو اسلام آباد کے سول جج قدرت اللہ نے سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کو دوران عدت نکاح کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم 13 جولائی 2024 کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے دوران عدت نکاح کے مقدمے میں سزا کو کالعدم قرار دے کر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کردیا تھا۔
23 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ضمانت 10،10 لاکھ روپے ضمانتی مچلکوں کی عوض منظور کی تھی، تاہم روبکار جاری نہ ہونے کے باعث ان کی رہائی نہیں ہوسکی تھی۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں ضمانت پر رہائی کا مختصر تحریری فیصلہ جاری کیا تھا۔
بعد ازاں، 20 نومبر 2024 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان کی 10 لاکھ روپے کے مچلکے اور 2 ضامنوں کے عوض ضمانت منظور کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور 22 نومبر کو اڈیالہ جیل سے ان کی رہائی کی روبکار جاری کردی گئی تھیں۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان 5 اگست 2023 کو گرفتاری کے بعد سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، ان کے خلاف توشہ خانہ کیس کے علاوہ 16 مزید مقدمات درج ہیں جن میں انہوں نے ضمانت نہیں حاصل کیں، تھانہ کوہسار میں 4، تھانہ نون میں2 ،کورال میں ایک مقدمہ درج ہے، سابق وزیراعظم کے خلاف تھانہ گولڑہ ،کراچی کمپنی، آئی نائن، شہزاد ٹاون، سنگجانی اور تھانہ رمنا میں بھی ایک ایک مقدمہ درج ہے۔