ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز انسانی آزادی اور جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں، سابق ایف آئی اے چیف
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر جنرل، سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز انسانی خودمختاری، جمہوری طرزِ حکومت اور خود ارادیت پر مبنی مستقبل کے تصور کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بحریہ یونیورسٹی میں ’کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سہولت کے آلات سے کنٹرول کے ہتھیاروں میں تبدیل ہو چکی ہیں‘ کے موضوع پرلیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے کہا کہ ’نگرانی پر مبنی سرمایہ داری‘ مارکیٹ کی ایک نئی شکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ نگرانی پر مبنی سرمایہ داری معلوماتی دور کی معاشی و سماجی حقیقت کی نمائندگی کرتی ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کسی ’ہیروئی سازش‘ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مخصوص تاریخی لمحے کا ثمر ہے، جس نے ’جمع کرنے‘ کی ایک نئی منطق کو جنم دیا۔
ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کے مطابق اس نظام نے انسانی تجربے کو ایک کھلے وسائل میں بدل دیا ہے، جسے حاصل کیا جا سکتا ہے اور انسانی رویے کو ایک ایسی جنس میں تبدیل کر دیا ہے جو فروخت کے قابل ہے، یہ سب علم اور طاقت کے ایسے انضمام کو ممکن بناتا ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے نتائج جمہوریت کا زوال، ذہنی ہیرا پھیری، عدم مساوات میں اضافے اور انسانی خودمختاری کو خطرے کی صورت میں سامنے آئے ہیں، یہ ضمنی اثرات نہیں بلکہ اس کے بنیادی معاشی محرکات کے براہِ راست نتائج ہیں۔
ڈاکٹر ثنااللہ عباسی کے مطابق ’نگرانی پر مبنی سرمایہ داری‘ محض ایک نیا کاروباری ماڈل نہیں بلکہ مارکیٹ کی ایک نئی شکل ہے جو انسانی خودمختاری، جمہوری طرزِ حکومت اور خود ارادیت پر مبنی مستقبل کے لیے وجودی خطرہ بن چکی ہے۔
انہوں نے اسے سرمایہ داری کی ایک ’تبدیل شدہ شکل‘ قرار دیا، جو انسانی تجربے کو یکطرفہ طور پر خام مال کے طور پر استعمال کرتی ہے، تاکہ اسے رویوں کے ڈیٹا میں تبدیل کیا جا سکے، یہ ڈیٹا بعد میں پراسیس، ملکیت اور استعمال کیا جاتا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر انسانی رویے کی پیش گوئی کی جا سکے، جو طاقت کی ایک بے مثال شکل ہے۔
لیکچر کے دوران ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے اس ماڈل کے نفسیاتی اور سماجی نقصانات پر بھی روشنی ڈالی جن میں ذہنی کنٹرول، لت، عدم مساوات میں گہرائی، اور الگورتھم کا تعصب شامل ہیں۔
سابق ایف آئی اے چیف نے کہا کہ ’ڈیجیٹل مستقبل کی جنگ‘ پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مزاحمت نہ کی گئی تو دنیا ایک ایسے نظام میں تبدیل ہو جائے گی جہاں مکمل ’آلاتی کنٹرول‘ ہوگا، ایک ’ڈیجیٹل بھوت‘ جو کارپوریٹ مفاد کے لیے انسانی فیصلوں کو خاموشی سے سمت دے گا۔
انہوں نے زور دیا کہ اس صورتحال کا متبادل ایک دانستہ، اجتماعی اور جرات مندانہ کوشش ہے، جس کے ذریعے ڈیجیٹل دنیا پر جمہوری اختیار دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے کہا کہ اس مقصد کے لیے مضبوط اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ قانون سازی ضروری ہے، اینٹی ٹرسٹ اصولوں کو ڈیٹا کے دور کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دینا چاہیے اور ایسی تکنیکی متبادل تیار کرنے چاہئیں جو انسانی فلاح کو منافع خوری پر فوقیت دیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ چیلنج یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی کو مسترد کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اسے دوبارہ انسانیت کی خدمت کے لیے حاصل کیا جائے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کا غلام بن جائے۔