پاکستان

ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 11 کروڑ ڈالرز سرپلس ہوگیا

ستمبر میں سرپلس کے باوجود رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 59 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہا، مرکزی بینک

پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ ستمبر میں 11 کروڑ ڈالرز سرپلس ہوگیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار جاری کر دیے۔

مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ 5 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز خسارے میں تھا، تاہم رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 59 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پہلی سہ ماہی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 18 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

واضح رہے کہ 18 ستمبر کو مرکزی بینک نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ رواں مالی سال کے ابتدائی 2 مہینے (جولائی تا اگست) کے دوران 62 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے میں چلا گیا تھا، جو جون 2025 میں 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز سرپلس رہا تھا۔

مرکزی بینک کے مطابق ملکی کرنٹ اکاؤنٹ اگست 2025 میں 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارے کی زد میں رہا تھا، جبکہ جولائی میں 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

19 اکتوبر کو ڈان نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کو اکتوبر سے دسمبر کے دوران 4 ارب 86 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کی بیرونی ادائیگیاں کرنی ہیں، سعودی عرب کے 3 ارب ڈالرز ڈپازٹ کی مدت بھی دسمبر کے پہلےہفتے میں ختم ہوگی۔

پاکستان کا سعودی ڈپازٹ کی مدت میں مزید توسیع کرانے کا پلان ہے، مزید توسیع پر پاکستان پرجاری سہ ماہی میں بیرونی ادائیگیوں کا بوجھ کم ہوکر ایک ارب 86 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز رہ جائےگا۔