پاکستان

’پاکستان میں 6 ماہ سے کم عمر کے صرف 47 فیصد بچے ماں کا دودھ پیتے ہیں‘

بہت سے قانون ساز نہیں جانتے کہ فارمولہ دودھ کے نقصانات کیا ہیں اور ماں کا دودھ بچوں کے لیے کتنا ضروری ہے، وزیرِ مملکت برائے صحت

یونیسیف کی نمائندہ برائے پاکستان پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا ہے کہ ماں کا دودھ ہر بچے کے لیے پہلا ٹیکہ، پہلا حق اور پہلی حفاظت ہے، پاکستان میں 6 ماہ سے کم عمر کے صرف 47 فیصد بچے ہی مکمل طور پر ماں کا دودھ پیتے ہیں، جو عالمی ہدف 60 فیصد سے بہت کم ہے۔

ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) اسلام آباد میں صحافیوں کے لیے آگاہی سیشن کا انعقاد ہوا، یہ مشاورتی اجلاس یونیسیف کے تعاون سے وزارتِ صحت، وزارتِ منصوبہ بندی اور دیگر اداروں کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں ملک کے ممتاز پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کے 40 سے زائد صحافیوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر میڈیا کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیہ منظور کیا جس میں ماں کے دودھ کے فروغ اور فارمولہ دودھ کی گمراہ کن تشہیر کی مخالفت کا عزم کیا گیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ پاکستان میں عوامی صحت اور بیماریوں سے بچاؤ کو فروغ دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ قانون سازوں اور میڈیا کے افراد میں صحت سے متعلق بنیادی حقائق اور ماں کے دودھ کی افادیت سے لاعلمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر ماں کے دودھ کے متبادل (بی ایم ایس) قانون تاخیر کا شکار اس لیے ہے کہ ارکانِ پارلیمنٹ میں اس کی اہمیت کا فہم موجود نہیں، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بہت سے قانون ساز نہیں جانتے کہ فارمولہ دودھ کے نقصانات کیا ہیں اور ماں کا دودھ بچوں کے لیے کتنا ضروری ہے۔

ڈاکٹر مختار بھرتھ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کئی پارلیمنٹیرینز اور سینئر صحافیوں کو یہ تک معلوم نہیں کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی پانی سے نہیں بلکہ متاثرہ خون یا آلات سے پھیلتے ہیں، ’جب وہ لوگ جو رائے عامہ بناتے ہیں بنیادی صحت کے حقائق سے ناآشنا ہوں، تو عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ دودھ پلانے، ویکسینیشن یا خاندانی منصوبہ بندی کو سمجھیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ماں کا دودھ فطری مانع حمل بھی ہے، جو خواتین دو سال تک صرف اپنا دودھ پلاتی ہیں، وہ اس دوران حاملہ نہیں ہوتیں، مگر اکثر خواتین کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں۔‘

انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ پاکستان میں آج تک ایک بھی ’بے بی فرینڈلی ہسپتال‘ قائم نہیں کیا جا سکا، جو دنیا بھر میں دودھ پلانے کی حوصلہ افزائی کرنے والی زچہ و بچہ سہولتوں کے لیے ایک بین الاقوامی معیار ہے۔

اس موقع پر یونیسیف کی نمائندہ برائے پاکستان پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ ’ماں کا دودھ ہر بچے کے لیے پہلا ٹیکہ، پہلا حق اور پہلی حفاظت ہے‘، مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں 6 ماہ سے کم عمر کے صرف 47 فیصد بچے ہی مکمل طور پر ماں کا دودھ پیتے ہیں، جو عالمی ہدف 60 فیصد سے بہت کم ہے، اس کمی کے باعث ہر سال ہزاروں بچے ایسی بیماریوں سے جان گنوا دیتے ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دودھ پلانا صرف بقا کا نہیں بلکہ معاشی اور صنفی مساوات کا بھی مسئلہ ہے، ہر ایک ڈالر جو دودھ پلانے پر خرچ ہوتا ہے، اس کے بدلے معیشت کو 35 ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے، دودھ پلانا جانیں بچاتا ہے، صحت کے اخراجات کم کرتا ہے اور قوم کے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 2025 میں صرف ستمبر تک 435 ملین ڈالر یعنی تقریباً 124 ارب روپے مالیت کا فارمولہ دودھ فروخت ہوا، جس کا بیشتر حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کیا گیا، جو نہ صرف خاندانوں پر مالی بوجھ ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

ماہرین نے زور دیا کہ میڈیا کو عوام میں دودھ پلانے کی اہمیت اجاگر کرنے، غلط فہمیوں کے ازالے اور گمراہ کن تجارتی تشہیر کے خلاف مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔