چند سال بعد اپنا چہرہ اے آئی کو فروخت کردوں گا، احد رضا میر کا دلچسپ انٹرویو وائرل
اداکار احد رضا میر کا ایک انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا، جس میں انہوں نے اپنے مستقبل کے منصوبوں، اداکاری کے تجربات اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں دلچسپ خیالات کا اظہار کیا۔
احد رضا میر نے حال ہی میں امریکا میں منعقد ہونے والے ایک ’میٹ اینڈ گریٹ‘ ایونٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مداحوں کے دلچسپ سوالات کے جوابات دیے۔
انہوں نے بتایا کہ کیمرے کے پیچھے ان کی زندگی گھروالوں کے اردگرد گھومتی ہے، انہیں گھر پر رہنا پسند ہے، فلمیں، تھیٹر اور سنیما دیکھنے کا شوق ہے، جب کہ وہ آرٹ کے بھی دلدادہ ہیں۔
اداکار نے دلچسپ انداز میں کہا کہ انہیں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بہت ڈر لگتا ہے۔
انہوں نے ہنستے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ چند سال بعد اپنا چہرہ اے آئی کو فروخت کر دیں گے، اس کے بعد وہ آرام سے بیٹھ جائیں گے اور سال میں ان کے دس ڈرامے آئیں گے۔
مستقبل میں کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احد رضا میر نے کہا کہ وہ کسی بھی فنکار کے ساتھ کام کر کے خوشی محسوس کریں گے، یہ بات شاید سیاسی لگے، لیکن وہ چاہتے ہیں کہ انہیں سب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر نئے ساتھی اداکار یا اداکارہ کے ساتھ نیا تجربہ حاصل ہوتا ہے، اسی لیے ان کی کوئی مخصوص خواہش نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جب بھی انہوں نے کسی کے ساتھ کام کیا، تجربہ ہمیشہ خوشگوار رہا، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔
احد رضا میر نے اپنے مشہور ڈرامے ’عہدِ وفا‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرد اداکاروں کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے منفرد تجربہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ آگے کیا کرنے والے ہیں، لوگ اکثر ان سے پوچھتے ہیں کہ اتنی شاندار اداکاری کے لیے کیا طریقہ کار اپنایا تھا، لیکن وہ سب کو بتانا چاہتے ہیں کہ کوئی خاص طریقہ کار نہیں تھا، بس ایک اداکار کے طور پر سب کچھ خودبخود ہوتا چلا گیا۔
اداکار کا مزید کہنا تھا کہ وہ آئندہ ایسے پراجیکٹس میں کام کرنا چاہتے ہیں جو منفرد، دلچسپ اور کچھ الگ ہوں۔