پی ٹی آئی کا پنجاب لوکل گورنمنٹ بل عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا، کل لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب لوکل گورنمنٹ بل چیلنج کرنے کے لئے پٹیشن تیار کر لی گئی۔
ڈان نیوز کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی جانب سے کل پٹیشن دائر کی جائے گی جس کی نمائندگی شیخ امتیاز محمود، اعجاز شفیع، منیر احمد، میاں شبیر اسمٰعیل کریں گے۔
پی ٹی آئی یہ پٹیشن صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کرے گی۔
پی ٹی آئی پنجاب کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایکٹ کی متعدد شقیں آئین پاکستان کے آرٹیکلز 17، 32 اور اے-140 سے متصادم ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما اعجاز شفیع کا کہنا تھا کہ قانونی ماہرین کی جانب سے تیار کردہ تفصیلی اعتراضات حکومت کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر جماعتی، ایک ووٹ ملٹی ممبر یونین کونسل ماڈل پر شدید تحفظات ہیں غیر جماعتی ماڈل سیاسی جماعتوں کا کردار کمزور کرتا ہے اور مقامی نمائندوں کی جگہ انتظامی افسران کا کنٹرول، اختیارات کو متاثر کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی اختیارات مرکزیت کی طرف منتقل کرنا، بلدیاتی خود مختاری کو متاثر کرے گا جب کہ غیر معینہ مدت تک ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا اختیار غیر آئینی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یونین کونسل چیئرمین کے براہ راست انتخاب کی بحالی ہونی چاہیے، بلدیاتی نظام کے لیے 5 سالہ مدت اور واضح شیڈول لازم کیا جائے۔
اعجاز شفیع کا کہنا تھا کہ درخواست میں ایگزیکٹو مداخلت اور ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات پر سخت پابندی کا مطالبہ کیا ہے، متنازع شقوں پر عملدرآمد روکنے اور بلدیاتی جمہوریت کے تحفظ کا مطالبہ کریں گے۔