پاکستان

پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اشارہ

سخت مالیاتی اور معاشی اقدامات کے ذریعے وقتی استحکام حاصل کر لیا گیا جسے پائیدار اور جامع معاشی ترقی میں بدلنا اب بھی بڑا چیلنج ہے، رپورٹ

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پاکستان کے بارے میں تازہ ترین جائزہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ فوری معاشی گراوٹ کا خطرہ کم ہوا ہے، مگر ملک اب بھی کمزور ترقی، بھاری قرضوں اور گھریلو صارفین کے لیے محدود ریلیف کے ساتھ ایک تنگ معاشی استحکام کے راستے میں پھنسا ہوا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے کیے گئے تخمینے کے مطابق پاکستان کی معاشی شرحِ نمو 2024ء میں 2.6 فیصد سے بڑھ کر 2026ء تک 3.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے، یہ اضافہ بمشکل 24 کروڑ 5 لاکھ کی آبادی کی شرحِ نمو کے برابر ہے۔

ایک ہزار 677 ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ، یہ رجحان معاشی بحالی سے زیادہ معاشی جمود کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پاکستان کی آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، سرکاری تخمینے 2025ء کے وسط تک 2.55 فیصد کی شرح بتاتے ہیں، عالمی بینک کے مطابق یہ 1.8 سے 1.9 فیصد کے درمیان ہے، اگرچہ یہ ماضی کی بلند سطح سے کم ہے، لیکن اب بھی معاشی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

پاکستان نے مہنگائی میں سب سے نمایاں بہتری دکھائی ہے، 2024ء میں اوسط مہنگائی 23.4 فیصد رہی، جو کہ 2025ء میں تیزی سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آنے کا اندازہ ہے، اور 2026ء میں 6.3 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی ہے۔

مدت کے اختتام پر مہنگائی بھی 2024ء کے 12.6 فیصد سے کم ہو کر 2025ء میں 3.2 فیصد تک آنے اور 2026ء میں دوبارہ 8.9 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے۔

مہنگائی میں کمی سخت مالیاتی پالیسی، کم سبسڈی اور طلب میں کمی کا نتیجہ ہے، مگر مستقبل میں دوبارہ اضافہ بتاتا ہے کہ قیمتوں کا استحکام اب بھی نازک ہے۔

لیبر مارکیٹ کی صورتحال زیادہ تسلی بخش نہیں، بیروزگاری کی شرح 2024ء کے 8.3 فیصد سے کم ہو کر 2026ء میں صرف 7.5 فیصد تک آنے کی توقع ہے، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ شرحِ نمو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

مالیاتی محاذ پر اصلاحات بڑی ہیں، حکومتی محصولات اور گرانٹس 2024ء میں جی ڈی پی کے 12.7 فیصد سے بڑھ کر 2026ء میں 16.3 فیصد تک پہنچنے کی امید ہے، جب کہ اخراجات جی ڈی پی کے 20 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔

نتیجتاً بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے -6.8 فیصد سے کم ہو کر -4.0 فیصد ہونے کی پیش گوئی ہے، پاکستان کو بنیادی سرپلس 2.5 فیصد تک برقرار رکھنے کی توقع ہے، جو آئی ایم ایف کی ایک اہم شرط ہے۔

اس سختی کے باوجود، عوامی قرض کا بوجھ اب بھی بہت زیادہ ہے۔

مجموعی حکومتی قرضہ (آئی ایم ایف قرض سمیت) جی ڈی پی کے تقریباً 72 سے 73 فیصد کے درمیان رہے گا، جب کہ حکومتی اور ضمانتی قرض 76 فیصد کے قریب رہنے کا امکان ہے۔

مقامی قرض جی ڈی پی کے تقریباً نصف کے برابر ہے، جس کے باعث بلند شرح سود کی وجہ سے سود کی ادائیگیاں بھاری رہتی ہیں۔

بیرونی دباؤ کم ہوئے ہیں مگر کمزوریاں باقی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ (جاری کھاتہ) 2024ء میں -0.6 فیصد خسارے سے 2025ء میں 0.5 فیصد سرپلس میں جانے اور 2026ء میں دوبارہ معمولی خسارے میں آنے کا امکان ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر 2024ء کے 9 ارب 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2026ء میں 17 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جس سے درآمدی کور 1.6 ماہ سے بڑھ کر 2.7 ماہ ہو جائے گا، یہ بہتری تو ہے، مگر اب بھی کم ہے۔

غیرملکی سرمایہ کاری بدستور کمزور ہے، براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) جی ڈی پی کے صرف 0.5 سے 0.6 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بہتری کے باوجود سرمایہ کار اب بھی احتیاط برت رہے ہیں۔

مالیاتی حالات بھی سخت ہیں، براد منی گروتھ 14 سے 16 فیصد کے درمیان رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ نجی شعبے کے قرضے کی شرح 6 فیصد سے بہتر ہو کر 15 فیصد تک آنے کی توقع ہے، مگر بلند شرح سود اسے محدود رکھتی ہے، 6 ماہ کے ٹریژری بل کی شرح 2024ء میں 21.5 فیصد رہی، جو مقامی قرضے کی بھاری لاگت کی عکاسی کرتی ہے۔

اسی دوران، روپے کی حقیقی مؤثر قدر میں 15.4 فیصد اضافہ 2024ء میں زرِمبادلہ کی نسبتاً استحکام کی علامت ہے، اگرچہ یہ برآمدات (خاص طور پر 17 ارب 30 کروڑ ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل) کے لیے خطرات رکھتا ہے۔

مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے اندازے ایک ایسی معیشت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس نے سخت مالیاتی اور معاشی اقدامات کے ذریعے وقتی استحکام تو حاصل کر لیا ہے، مگر اب بھی بھاری قرضوں، کمزور سرمایہ کاری اور سست روزگار کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔

فوری بحران تو ٹل گیا ہے، لیکن اس استحکام کو پائیدار اور جامع معاشی ترقی میں بدلنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔