لانڈھی میں رکشے میں سوار لڑکی ’اندھی گولی‘ کا نشانہ بن گئی، انکوائری کا حکم
کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں رکشے میں سفر کے دوران ایک لڑکی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی، جس پر اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران ماری گئی۔ واقعے کے بعد پولیس حکام نے الزامات کی حقیقت جانچنے کے لیے انکوائری کا حکم دے دیا۔
لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی نے ڈان کو بتایا کہ 17 سالہ کومل لائق، جو لائنز ایریا کی رہائشی تھیں، اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے ملنے گئی تھیں۔
وہ والدہ کے ساتھ رکشے میں گھر واپس آ رہی تھیں کہ اچانک ایک گولی رکشے کے شیشے توڑتی ہوئی ان کے سینے میں لگی۔ وہ شدید زخمی ہوئیں اور انہیں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
مقتولہ کے ماموں ریحان نے اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھانجی پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کےتبادلے کے دوران جاں بحق ہوئی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے ڈان کو بتایا کہ لڑکی کو اسپتال مردہ حالت میں لایا گیا تھا۔ ان کے مطابق اہلِ خانہ نے میڈیکو لیگل کارروائی کی اجازت نہیں دی اور لاش ساتھ لے گئے۔
انکوائری کا حکم
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کورنگی کے ایس ایس پی فدا حسین جنوری نے انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ڈی ایس پی لانڈھی فائزہ سدھر کریں گی، جبکہ کمیٹی میں ایس ایچ او لانڈھی اور ایس آئی او عوامی کالونی شامل ہیں۔
ترجمان پولیس کے مطابق کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کر کے فوری رپورٹ پیش کی جائے۔
پولیس بیان کے مطابق عوامی کالونی پولیس پارٹی نے کورنگی میں ایک بینک کے باہر ڈکیتی کرنے والے ملزمان کا تعاقب کیا۔ ملزمان نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس پر جوابی کارروائی میں ایک ملزم مولا بخش زخمی حالت میں گرفتار ہو گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے گرفتار ملزم سے ایک پستول اور موبائل فون برآمد کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بعد ازاں اطلاع ملی کہ 17 سالہ کومل، جو رکشے میں سفر کر رہی تھیں، لانڈھی تھانے کی حدود میں غفور مٹھائی والا کے قریب گولی لگنے سے زخمی ہوئیں اور دم توڑ گئیں۔
لانڈھی پولیس کے ایس ایچ او صلاح الدین قاضی، جو انکوائری ٹیم کا بھی حصہ ہیں، نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں دونوں واقعات کے اوقات میں فرق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق لڑکی کو گولی تقریباً ساڑھے 11 بجے لگی جبکہ عوامی کالونی پولیس کا کہنا ہے کہ مقابلہ تقریباً ایک بجے ہوا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کے ماموں ریحان نے تحریری بیان میں پولیس اور ڈاکٹروں کو بتایا کہ یہ ایک حادثہ تھا اور وہ اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی کے خواہاں نہیں ہیں۔