بھارت بنگلہ دیش کشیدگی: کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو نکالنے کی ہدایت
بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے سیکریٹری دیوجیت سائکیا نے کہا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو بنگلہ دیش کے فاسٹ باؤلر مستفیض الرحمان کو ریلیز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان پر اپنی فرنچائز میں مستفیض الرحمان کو شامل کرنے پر تنقید کی اور انہیں غدار قرار دیا۔
مستفیض الرحمان کی کولکتہ نائٹ رائیڈرز میں شمولیت ایسے وقت ہوئی تھی جب بھارتی دائیں بازو کی جانب سے بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مبینہ حملوں کے الزامات سامنے آ رہے تھے۔
گزشتہ ماہ نئی دہلی میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے قریب سینکڑوں افراد نے احتجاج کیا تھا، یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں ہندو فیکٹری ورکر دیپو چندر داس کو ایک ہجوم کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنانے اور زندہ جلانے کے واقعے کے بعد کیا گیا۔ ہجوم نے الزام عائد کیا تھا کہ دیپو چندر داس نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دیے تھے۔
اس واقعے میں مجموعی طور پر 12 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
دیوجیت سائکیا نے بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث بی سی سی آئی نے فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے اسکواڈ سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی مستفیض الرحمان کو ریلیز کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو ٹیم متبادل کھلاڑی کی درخواست کر سکتی ہے، جس کی بی سی سی آئی اجازت دے گا۔
کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی پی ایل کے قواعد کے مطابق ٹیم کو متبادل کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت دی جائے گی اور اس حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس معاملے پر مستفیض الرحمان سے مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔
30 سالہ مستفیض الرحمان اس سے قبل آئی پی ایل میں سن رائزرس حیدرآباد، ممبئی انڈینز، راجستھان رائلز، چنئی سپر کنگز اور دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
انہوں نے آئی پی ایل کے 60 میچز میں 65 وکٹیں حاصل کیں۔
گزشتہ ماہ ہونے والی نیلامی میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے انہیں 92 ملین بھارتی روپے (تقریباً 10 لاکھ 20 ہزار ڈالر) میں خریدا تھا، جس کے ساتھ وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے سب سے مہنگے بنگلہ دیشی کھلاڑی بن گئے تھے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن کانگریس پارٹی نے سنگیت سوم کی جانب سے شاہ رخ خان پر کی جانے والی تنقید کی مذمت کی۔
اتر پردیش کے سابق رکن اسمبلی سنگیت سوم نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ وہ ایک ایسے ملک کے کھلاڑی پر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ایک ویڈیو کلپ میں سنگیت سوم نے کہا کہ جس طرح بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم ہو رہے ہیں، خواتین اور بچیوں کی عصمت دری کی جا رہی ہے، ان کے گھروں کو جلایا جا رہا ہے اور وہاں بھارت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں، اس کے باوجود شاہ رخ خان جیسے لوگ، جنہیں انہوں نے غدار کہا، ایسے ملک کے کھلاڑیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو بھارت کے خلاف کام کر رہا ہے۔
اس واقعے نے بھارت اور اس کے ہمسایہ ملک کے درمیان تعلقات کو مزید خراب کر دیا ہے، جو پہلے ہی 2024 میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے حکومت مخالف احتجاج کے بعد نئی دہلی منتقل ہونے کے بعد کشیدہ تھے۔
آئی پی ایل کا 19واں ایڈیشن 26 مارچ سے شروع ہوگا، اس سے قبل بھارت اور سری لنکا فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی مشترکہ میزبانی کریں گے۔