پاکستان

جنوبی وزیرستان: جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما بم دھماکے میں شہید

وانا بازار میں مدرسے کے قریب دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جے یو آئی ف کے رہنما مولانا سلطان محمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، مولانا فضل الرحمٰن نے واقعے کو پُرامن بیانیے پر حملہ قرار دیا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں مدرسے کے قریب بم دھماکے میں شدید زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینئر رہنما مولانا سلطان محمد ہفتے کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔

پولیس کے مطابق جمعہ کو کنڑا چینہ کے علاقے میں ایک دینی مدرسے کے قریب ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم نصب کیا گیا تھا، جس کا ہدف مولانا سلطان محمد وزیر تھے، جو وفاق المدارس العربیہ کے ضلعی صدر بھی تھے۔

دھماکے کے بعد مولانا سلطان محمد کو فوری طور پر علاج کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد طاہر شاہ وزیر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ان کے مطابق جائے وقوع سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ذمہ دار عناصر تک پہنچا جا سکے۔

مولانا سلطان محمد پر حملہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی وزیرستان، بالخصوص وانا اور برمل تحصیل میں جے یو آئی ف کے رہنماؤں اور دینی علماء کو نشانہ بنانے کے واقعات کی تازہ کڑی ہے۔

جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص اور بہادر رہنما قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ کسی ایک فرد پر نہیں بلکہ اعتدال، امن اور جمہوری سوچ پر حملہ ہے، اور جے یو آئی ف انہی اقدار کی علمبردار ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ باجوڑ کے بعد جنوبی وزیرستان جیسے مذہبی طور پر اہم خطے میں امن اور آزادی کے حامی علماء کو نشانہ بنانا ایک نہایت تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ مارچ 2025 میں جنوبی وزیرستان کے امیر ایک بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ملتان کے نشتر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جبکہ جون 2024 میں سابق ضلعی صدر مولانا مرزا جان وزیر بھی ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہو کر بعد ازاں جاں بحق ہو گئے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف جیسی جماعت، جو اعتدال، برداشت اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ علماء پر ہونے والے یہ حملے نہ صرف سیکیورٹی اداروں کی ناکامی اور غفلت کا ثبوت ہیں بلکہ اس پُرامن بیانیے کو دبانے کی سازش بھی ہیں جسے جے یو آئی ف برسوں سے ملک بھر میں، خصوصاً قبائلی علاقوں میں فروغ دے رہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کے مطابق ایسے علماء کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کے بجائے دلیل، نفرت کے بجائے محبت اور انتشار کے بجائے امن کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف نے ہمیشہ ظلم اور تشدد کی مخالفت کی، آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی اور ریاستی دائرے میں رہتے ہوئے اصلاح اور امن کی جدوجہد کو اپنا شعار بنایا۔

مولانا فضل الرحمن نے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں، بالخصوص قبائلی اضلاع میں علماء کے تحفظ اور امن کے قیام کو یقینی بنائیں اور ان واقعات میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جے یو آئی ف ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد ہر قربانی کے باوجود جاری رکھے گی۔

امن کمیٹی کے سربراہ پر حملہ

دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی تحصیل سرویکئی کے علاقے بروند میں امن کمیٹی کے سربراہ قدیم خان کی گاڑی کو بھی دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

اپر جنوبی وزیرستان کے ڈی پی او ارشد خان کے مطابق دھماکے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا تاہم قدیم خان معمولی زخمی ہوئے اور محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے، علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمی رہنما کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈی پی او نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا اور واقعے کے ذمہ داروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔