مانسہرہ: جماعت اسلامی خیبر پختونخوا نے حالیہ ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے حکیم اللہ محسوداور ان کے ساتھیوں کو شہید قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنا اسٹریٹیجک اتحاد ختم کردے۔
جماعت اسلامی، خیبر پختونخوا کے سربراہ پروفیسر محمد ابراہیم نے اپنی جماعت کے زونل اور یونین کے سربراہوں کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”حالیہ ڈرون حملوں میں جو بھی مارے گئے ہیں، وہ شہداء ہیں، ان کا خاتمہ اس وقت کیا گیا، جب پاکستان میں مستقل امن کے قیام کے لیے وہ مذاکرات کے عمل کے لیے تیار ہوئے تھے۔ امریکا ہمارے ملک کے قومی مفادات پر توجہ دیے بغیر اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے اور اس ڈرون حملے نے حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کو سبوتاژ کردیا ہے، جو نام نہاد محب وطن کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔“
پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ان کے حکومتی اتحادی مستقبل میں ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے جو بھی اقدامات اُٹھائیں گے، ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کسی بھی مغربی ملک سے انتقامی لڑائی نہیں چاہتی، اور ان ممالک کے ساتھ مساویانہ اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس خطے میں امریکی غلبے کو چیلینج کرنے کے واضح پروگرام کے ساتھ پاکستان حکمرانوں کو آگے بڑھنا چاہئیے۔
انہوں نے کہا کہ ”اب لوگوں کو احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ امریکا پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں ہے، اور وہ اس خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔“
اس سے قبل جماعت اسلامی کے صوبائی امیر نے نو منتخب زونل اور یونین سربراہوں سے حلف لیا، اور عوام اور ملک کی بہتری پر کام کرنے کے لیے زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کی بڑی تعداد جماعت اسلامی کی عوامی پالیسیوں کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاست ایک مقصد اور ضرورمندوں کی مدد کے لیے ہونی چاہئیے۔
اس موقع پر جماعت اسلامی ڈسٹرکٹ امیر یونس خٹک اور طارق شیرازی نے بھی خطاب کیا۔