پیرس حملے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کرلی

اپ ڈیٹ جنوری 14 2015

ای میل

فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو پر حملے کے خلاف مظاہرے میں شریک افراد—۔فائل فوٹو/ اے پی
فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو پر حملے کے خلاف مظاہرے میں شریک افراد—۔فائل فوٹو/ اے پی

دبئی: عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کی یمنی شاخ نے فرانسیسی رسالے چارلی ہیبڈو پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یمن میں موجود القاعدہ کی شاخ کی جانب سے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا 'انتقام' تھا۔

'پیرس کی بابرکت جنگ' کے عنوان سے جاری کیے گئے ویڈیو پیغام میں گروپ کے رہنما ناصر الانسی کا کہنا ہے کہ ' ہم اللہ کے رسول ﷺ کے 'انتقام' کے لیے اس آپریشن کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں'۔

پیغام میں ناصر الانسی کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہدایت پر کیا گیا۔

یاد رہے کہ 7 جنوری کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایک مزاحیہ سیاسی رسالے کے دفتر میں فائرنگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک اور دس زخمی ہو گئے۔

چارلی ہیبڈو نامی رسالے نے 2011 میں پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے اپنے سرورق پر شائع کیے تھے جس کے بعد اس کے دفتر پر فائربموں کے ذریعے حملہ بھی کیا گیا تھا جب کہ گذشتہ ہفتے اس میگزین نے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کے حوالے سے ٹوئٹ کی تھی۔

جزیرہ نما عرب کی القاعدہ شاخ کا قیام جنوری 2009 میں اس وقت عمل میں آیا جب یمن اور سعودی عرب کی القاعدہ شاخوں نے آپس میں الحاق کرلیا تھا۔

امریکا نے القاعدہ کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور القاعدہ رہنماؤں کے خلاف امریکی ڈرون جنگ بھی مسلسل جاری ہیں۔