• KHI: Partly Cloudy 29.1°C
  • LHR: Sunny 27.7°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.8°C
  • KHI: Partly Cloudy 29.1°C
  • LHR: Sunny 27.7°C
  • ISB: Partly Cloudy 23.8°C

خیبرپختونخوا کے شہد کی مٹھاس خطرے میں

شائع November 28, 2016 اپ ڈیٹ November 28, 2016 07:51pm

صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات میں فقدان کے سبب خیبر پختونخوا میں شہد کی پیداوار مسلسل گراوٹ کا شکار ہے۔

برآمدات خصوصاً خلیجی ریاستوں کو بھیجے جانے والے شہد سے اندازاً 5 ارب روپے سالانہ کی آمدن ہوتی ہے۔

خیبرپختونخوا میں قالین سازی کے بعد ’بی کیپنگ‘ (شہد کی مکھیوں کو پالنا) کا شعبہ دوسری بڑی برآمداتی صنعت کے طور پر سامنے آیا تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس کی پیداوار میں کمی دیکھی جارہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں بی کیپنگ کے کاروبار نے 1979 میں اس وقت فروغ پایا جب اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی جانب سے خیبر پختونخوا میں بسنے والے افغان پناہ گزینوں کے لیے بی کیپنگ پروگرام کا آغاز کیا گیا اور اس پروگرام کے تحت ہر مہاجر خاندان کو ایک باکس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اسکیل پر کاروبار شروع کرنے کی تربیت فراہم کی گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اس کام کے لیے آسٹریلیا اور اٹلی سے شہد کی مکھیوں کی درآمد میں بھی مدد فراہم کی۔

خیبرپختونخوا میں شہد کی مکھیوں کو پالنے اور برآمد کرنے والی تنظیم کے صدر سلیم خان کے مطابق شہد کی پیداوار کے کاروباری افراد میں سے 90 فیصد لوگ افغانی جبکہ 10 فیصد پاکستانی ہیں۔

حکومت کی جانب سے افغان پناہ گزینوں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاؤن نے صوبے میں شہد کی پیداوار کو شدید متاثر کیا، سلیم خان بتاتے ہیں کہ ویزا اور ورک پرمٹ کی شرط شہد کی پیداوار میں بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کاروبار کو مکمل ناکام ہونے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کو درست ورک پرمٹ جاری کیے جائیں۔

اس کریک ڈاؤن کے باعث نہ صرف قیمتی چھتوں کی ترسیل متاثر ہوئی بلکہ پولیس بھی بی فارمرز سے ہر ٹرک کے 500 سے 1ہزار روپے وصول کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایسوسی ایشن بی فارمنگ کے کاروبار کو انڈسٹری کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتی ہے، کیونکہ اس اقدام کے ذریعے برآمد کنندگان لوکل ٹیکس سے بچ سکیں گے اور دیگر سہولیات سے مستفید بھی ہوپائیں گے۔

خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والے شہد کی مختلف اقسام ہیں لیکن بیر، پلوسہ کی پیداوار سب سے زیادہ ہے، دیگر اقسام میں کیکر، سپرکائی، شفتالو، اورنج بلاسم اور سن فلاور شامل ہیں۔

پلوسہ شہد کا موسم اپریل سے مئی ہے جب کہ بیر شہد ستمبر اکتوبر کے موسم میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

بیری کا شہد 12 سو سے 2 ہزار روپے فی کلوگرام کی قیمت میں فروخت ہوتا ہے جبکہ پلوسہ جسے شہد کی دوسری بہترین قسم سمجھا جاتا ہے ، یہ مقامی مارکیٹ میں 250 سے 300 روپے فی کلوگرام میں فروخت کیا جاتا ہے، شہد کی سب سے مہنگی اور نایاب قسم وہ ہے جو چھوٹے سائز کی مکھیاں اصلی پھولوں سے تیار کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں : پاکستان شہد کی مکھیوں سے محروم ہونے لگا

یہ شعبہ غیر رسمی انداز میں کام کرتا ہے، شہد کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے لیے کوئی مرکز موجود نہیں، شہد کوچھتوں سے نکالنے کا درست طریقہ سکھانے کے لیے بھی نہ کوئی تربیتی مرکز قائم ہے اور نہ برآمد کرنے والے افراد کو شہد کی صفائی اور پیکنگ کے لیے سہولیات میسر ہیں۔

شہد کی پیداوار کا کاروبار صوبے کے مختلف ضلعوں تک پھیلا ہوا ہے جن میں سوات، ناران، کاغان، پشاور، مردان، کڑک، کوہاٹ، ہری پور اور فاٹا کے کچھ علاقے شامل ہیں، ان علاقوں میں موجود بی فارمز کی تعداد 50ہزار سے 60ہزار ہے۔

بی فارمنگ سے منسلک عبدالجلیل کے مطابق، ایک فارم میں موجود ڈبوں کی تعداد 120 ہے اور ہر ڈبے میں 33ہزار مکھیوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، یوں ہر سیزن میں ایک بی فارم سے تقریباً 1 ہزار کلو شہد حاصل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہر ڈبے کی قیمت 6 ہزار 6سو روپے ہوتی ہے لیکن ان دنوں افغانی افراد اپنے ڈبے بہت کم قیمت پر فروخت کرنے کو تیار ہیں، اگر ان ڈبوں کی مناسب دیکھ بھال نہ کی گئی تو مکھیوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ایسوسی ایشن کے صدر عبدالجلیل بتاتے ہیں کہ جون اور جولائی کے مہینے آف سیزن ہیں جس میں شہد کی مکھیوں کو کھانے کے لیے 150 سے 200 شکر کے تھیلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بی فامرز کی ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ مکھیوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے حکومت بی فارمنگ سے منسلک افراد کی تربیت کے لیے ایسے کورسز متعارف کروائے جس سے وہ چھتوں کی حفاظت، مکھیوں کو زیادہ درجہ حرارت اور کیڑے مار ادویات کےاثرات سے محفوظ رکھنے سے متعلق جان سکیں۔

پاکستانی تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کی جانب سے بلین ٹری سونامی منصوبے کا اعلان کیا جاچکا ہے، تاہم بی فارمزبیر کے پودے دوبارہ لگانے کامطالبہ کرتے ہیں تاکہ مکھیوں کو غذا میسر آسکے۔

2015 اور 2016 کے درمیان پاکستان نے خلیجی ریاستوں کو 600 کنٹینرز کے قریب شہد برآمد کیا، ہر کنٹینر کا وزن 19 ہزار 6 سو کلو تھا اس حساب سے برآمد کیے جانے والے شہد کی کل مقدار تقریباً 11 کروڑ 7 لاکھ اور 60 ہزار کلو تھی، سب سے زیادہ شہد سعودی عرب اور اس کے بعد امارات کو روانہ کیا گیا۔

بی فارمنگ ایسوسی ایشن کے صدر کہتے ہیں کہ ہر کنٹینر پر 3 لاکھ روپے خرچہ آیا جس میں درآمدی ٹیکس شامل تھا مگر سعودی عرب تک پہنچتے پہنچتے ڈیوٹی، ٹیکسز اور کلیئرنگ ملا کر یہ قیمت 5 لاکھ تک پہنچ گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت اس کام کو سعودی انتظامیہ سے خود طے کرلے تو ہم اس قیمت کو بچا سکتے ہیں۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے شہد کی بڑی مقدار یمن پہنچتی ہے جہاں خلیجی ریاستوں میں فروخت کے لیے اس کی دوبارہ پیکنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد یہ شہد یمنی برانڈز کے نام سے یورپ اور امریکا کو برآمد کیا جاتا ہے۔

دوبارہ پیکنگ کے بعد یہ شہد 50 سے 400 سعودی ریال فی کلو کی قیمت سے فروخت ہوتا ہے جبکہ سعودی بندرگاہوں پر کلیئرنس کے بعد پاکستانی شہد کی قیمت 30 سے 100 ریال فی کلو ہوتی ہے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے شہد کی بین الاقوامی معیار کی پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے لیے سہولیات فراہم نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو صوبے میں بی کلسٹرز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

شہد کی برآمد میں اضافے کے لیے ایک ایسا بورڈ تشکیل کیا جائے جسے فارمرز ایسوسی ایشن، محکمہ جنگلات سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کی نمائندگی حاصل ہو۔

یہ بورڈ نہ صرف اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے کام کرے بلکہ برآمد کنندگان کی رجسٹریشن اور بہتر برآمدی مارکیٹس کی تلاش بھی کرے۔

حکومت چاہے تو خیبرپختونخوا میں کینیڈین نظام کے تحت بی انڈسٹری قائم کرسکتی ہے جہاں باقائدہ بی کیپرز کی ایک کونسل موجود ہے۔

علاوہ ازیں، شعبے کی بہتری اور اس کی درآمد میں اضافے کے لیے فارمرز اور ورکرز کو مناسب تربیت اور قرضوں کی فراہمی کی بھی ضرورت ہے۔


یہ خبر ڈان، بزنس اینڈ فنانس ویکلی میں 28 نومبر 2016 کو شائع ہوئی۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026