Email


آئیے آج آپ کو میلان لیے چلتے ہیں جو آبادی کے لحاظ سے اٹلی کا دوسرا بڑا شہر اور اہم تجارتی مرکز بھی ہے۔ فیشن کی دنیا کے ڈھیروں رنگ لیے یہ شہر نہ صرف یورپ کی 26 صدیوں کی تاریخ کا آئینہ دار ہے بلکہ مستقبل کی دوڑ میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔

اس خوبصورت شہر میں مجھے دو دن گزارنے کا موقعہ ملا، ہوٹل رسیپشنسٹ سے میں نے پوچھا کہ اس شہر میں سب سے پہلے کہاں جانا چاہیے تو اس نے تپاک سے مرکزی کیتھڈرل جانے کا مشورہ دے ڈالا۔

کیتھڈرل جاتے ہوئے ایک رنگ برنگی گلی نے میری توجہ اپنی جگہ مبذول کروا لی۔ اس تنگ گلی کے دونوں اطراف لوگوں نے اسٹال لگا رکھے تھے۔

ان اسٹالز پر روایتی کپڑے، جیولری جیسی چیزیں دستیاب تھیں مگر مجھے ان سب سے ہٹ کر پھل اور سبزیوں کے اسٹال سب سے زیادہ دلکش لگ رہے تھے۔

میلان شہر کا جدید حصہ — تصویر رمضان رفیق
میلان شہر کا جدید حصہ — تصویر رمضان رفیق

میلان کا ایک چوراہا — تصویر رمضان رفیق
میلان کا ایک چوراہا — تصویر رمضان رفیق

گلی میں موجود ایک بازار — تصویر رمضان رفیق
گلی میں موجود ایک بازار — تصویر رمضان رفیق

پھلوں کی خوبصورتی آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی. میں نے وہاں تقریباً سبھی پھل کھا کر دیکھے۔ خوبانیاں پاکستان جیسی میٹھی نہ تھیں، آڑو کا سائز پاکستانی آڑوؤں سے بڑا تھا اور ذائقہ بھی پاکستانی آڑو سے ملتا جلتا تھا۔

آلو بخارے کی بات کی جائے تو وہ پاکستانی آلو بخارے سے زیادہ رسیلے تھے۔ مقامی خربوزہ کھانے کا اتفاق ہوا جو پاکستانی خربوزے سے کافی زیادہ رسیلا ثابت ہوا۔

میلان کیتھڈرل

اٹلی کے اس سب سے بڑے چرچ کو مکمل ہونے میں چھے صدیوں کا عرصہ لگا تھا۔ آپ چھے صدیوں کا طویل عرصہ سن کر شاید سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ایسا کیا تھا اس چرچ میں؟

تو اس بات کا اندازہ محض اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ اس چرچ میں 34 ہزار سے زائد مجسمے ایستادہ کیے گئے ہیں۔

اس کی تعمیر کا آغاز 1386 میں ہوا اور سرکاری طور پر 1965 میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی، مگر کہتے ہیں کہ اس کی تعمیر ابھی تک جاری ہے اور کچھ مجسموں کا مکمل ہونا ابھی باقی ہے.

اس عمارت کا نفیس طرزِ تعمیر کسی مقناطیسی قوت کی طرح دور سے ہی دل کو اپنی جانب مائل کر لیتا ہے۔ قریب آتے آتے یہ کیتھڈرل اپنی خوبصورتی اور منفرد ڈیزائینز سے آپ پر حیرت کے نئے باب کھولتا جاتا ہے۔

در و دیوار پر کیا گیا سنگ تراشی کا نفیس اور اعلیٰ پائے کا کام چھے صدیوں پر محیط سنگ تراشوں کے کمال فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس چرچ کو دنیا کا پانچواں بڑا کیتھیڈرل ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

میلان کیتھڈرل — تصویر رمضان رفیق
میلان کیتھڈرل — تصویر رمضان رفیق

میلان کیتھڈرل کی دیواروں پر نصب مجسمے — تصویر رمضان رفیق
میلان کیتھڈرل کی دیواروں پر نصب مجسمے — تصویر رمضان رفیق

کیتھڈرل کا دروازہ جس پر مجمسے نصب ہیں— تصویر رمضان رفیق
کیتھڈرل کا دروازہ جس پر مجمسے نصب ہیں— تصویر رمضان رفیق

جب ہم اس چرچ کے بالکل پاس پہنچے تو لوگوں کا ایک ہجوم اس دیدنی چرچ کا دیدار کرنے پہنچے ہوا تھا۔

موسم کافی گرم تھا اور دھوپ میں کھڑا ہونا مشکل ہو رہا تھا، ایسے میں چرچ سے متصل ایک عمارت اپنی جانب توجہ مبذول کرواتی ہے۔

گیلیریا ویٹوریو

میلان چرچ کے بالکل ساتھ ایک خوبصورت عمارت کھڑی ہے جس کا نام گیلیریا ویٹوریو ہے۔ اس عمارت کو دنیا کے سب سے پرانے شاپنگ مالز میں سے ایک ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

اب وہاں برانڈڈ اسٹورز ہیں اور ایک دو آرٹ گیلریز بھی ہیں۔ اس گیلری کو ایک تھری ڈی تصویر کہا جا سکتا ہے، شیشے کی بنی ہوئی چھت اونچے اونچے محراب اور در و دیوار پر نقش و نگار اور تصاویر کا حسین امتزاج اس گیلری کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

اسی گیلری کے ایک کونے پر میں نے اٹالین آئس کریم بھی کھائی. سچ کہیے تو اٹلی میں پیزا اور آئسکریم دونوں ہی مجھے اچھے لگے۔

گیلیریا ویٹوریو کا مرکزی دروازہ — رمضان رفیق
گیلیریا ویٹوریو کا مرکزی دروازہ — رمضان رفیق

گیلیریا ویٹوریو — تصویر رمضان رفیق
گیلیریا ویٹوریو — تصویر رمضان رفیق

لیونارڈو ڈا ونچی کا مجسمہ

گیلریا ویٹوریا کے پہلو میں لیونارڈو ڈا ونچی کا ایک بڑا مجسمہ بھی اپنی طرف بلاتا ہے۔ ایک دائرہ نما اسٹرکچر میں لگا ہوا یہ مجسمہ سیاحوں سے گھرا ہوا تھا۔ مونا لیزا کی مسکراہٹوں سے ساری دنیا کے دل میں گھر کرنے والا لیونارڈو دراصل تکینیکی اعتبار سے ایک انجینیئر بھی تھا، اس نے اس دور کے اعتبار سے نہ صرف بہت سے سائنسی ڈائگرامز کو زندگی بخشی، بلکہ پہلی اڑنے والی مشین کے نظریہ کو بھی تصویر کے روپ میں ڈھالا۔ اس مایہ ناز مصور کے مجسمے کے قدموں میں ایک فنکار پنسل کی مدد سے لوگوں کے لائیو سکچ بنانے میں مصروف تھا۔

میلان میں ایک جگہ نصب لیونارڈو ڈا ونچی کا مجسمہ— تصویر رمضان رفیق
میلان میں ایک جگہ نصب لیونارڈو ڈا ونچی کا مجسمہ— تصویر رمضان رفیق

ایک آرٹسٹ لوگوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے — تصویر رمضان رفیق
ایک آرٹسٹ لوگوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتا ہے — تصویر رمضان رفیق

اٹالین آئس کریم — تصویر رمضان رفیق
اٹالین آئس کریم — تصویر رمضان رفیق

میلان کا ٹرام ٹور

پیدل چلتے ابھی چند گھنٹے ہی گذرے ہوں کہ ایک ٹرام نظر آئی جو شہر کے مختلف حصوں کی سیر کروا رہی تھی. ٹرام والے نے پندرہ یورو کے عوض کوئی گھنٹے بھر کی سیر کا پیکج بتایا جو ہم نے قبول کر لیا۔

ٹرام بالکل خالی تھی. اس نے ہمیں ایک بلوٹوتھ والا اسپیکر دیا جو ہمیں قریبی عمارتوں کے بارے میں انگریزی زبان میں بتا رہا تھا۔

ٹرام میں بیٹھنا ایک تجربہ تھا جو ہم نہ بھی کرتے تو دل پر کچھ بوجھ نہ ہوتا لیکن ایک دو گھنٹے پیدل چلنے کے بعد ٹرام کا سفر بھلا بھلا سا لگا۔

میں نے محسوس کیا کہ 60 فیصد سے زیادہ اہم عمارتیں جو اس ٹرام کے راستے پر تھیں، وہ گرجا گھر ہی تھے. اس سے شہر میں مذہب کے حوالے سے تاریخ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

ٹرام والا کسی تاریخی عمارت کے پاس جا کر اس کو تھوڑا اور آہستہ کر لیتا تاکہ میں اس عمارت کی تصاویر لے سکوں۔ اس کی اس عنایت سے میں نے خوب فائدہ اٹھایا اور اس ایک گھنٹے کے سفر میں درجنوں تصاویر لیں۔

ٹوئرسٹ ٹرام — تصویر رمضان رفیق
ٹوئرسٹ ٹرام — تصویر رمضان رفیق

ٹرام سے متعدد چرچ دیکھنے کو ملے — تصویر رمضان رفیق
ٹرام سے متعدد چرچ دیکھنے کو ملے — تصویر رمضان رفیق

سینٹرل اسٹیشن کے قریب واقع ایک چرچ — تصویر رمضان رفیق
سینٹرل اسٹیشن کے قریب واقع ایک چرچ — تصویر رمضان رفیق

شہر کا جائزہ لینے کا یہ بہترین طریقہ تھا، لیکن اس سفر میں ہم زیادہ تر پرانے میلان کی سڑکوں اور گلیوں میں ہی گھومے پھرے۔

ایک جگہ ٹرام رکی تو ٹرام کا ڈرائیور ایک لوہے کا ایک نوکدار ڈنڈا لیے فورا اترا۔ اس کی پھرتی قابل دید تھی، مجھے ایسا لگا کہ وہ ٹرام کے آگے کھڑے موٹر سائیکل والے پر خفا ہو گیا ہے۔ اس نے اس اوزار کی مدد سے زمین پر بچھی ٹرام کی لائنوں میں ایک جگہ پر کسی ناب کو دبایا اور واپس اپنی سیٹ پر آگیا۔

میں نے اس سے پوچھا بھائی خیریت تو تھی، تو کہنے لگا کہ وہ ٹرام کا راستہ بدلنے گیا تھا، جسے ہم کانٹا بدلنا کہتے ہیں، بالکل ویسے ہی اس نے دیکھتے ہی دیکھتے ٹرام کا ٹریک بدل کر رکھ دیا۔

ایک اور حیرانی جو مجھے اس سارے ٹرام کے راستے ہوتی رہی وہ یہ کہ کنڈیکٹر نے ہمیں ادا کیے ہوئے تیس یورو کی رسید نہیں دی، جبکہ ٹرام کے پمفلٹ پر لکھا ہوا تھا کہ اس مالیت کا ٹکٹ ایک دن کے اندر بار بار اترنے چڑھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مجھے ایسے لگا کہ اس طرح کسی بھی مسافر سے پیسے لے کر ڈرائیور کنڈیکٹر بڑی آسانی سے چھپا سکتے ہیں، یا ایسا کوئی ملتا جلتا نظام میں نے یورپ میں کسی اور جگہ دیکھا نہ تھا۔

ٹرام کے راستے میں سانٹا ماریہ نامی چرچ بھی نظر آیا. آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ٹرام سے یونیسکو کی جانب سے ورثہ قرار دی گئی اس عمارت کی تصاویر لینا ایک امتحان ہی تھا، لیکن پھر بھی کچھ ایک دو تصاویر لینے میں ہم کامیاب رہے۔

سانٹا ماریہ چرچ — تصویر رمضان رفیق
سانٹا ماریہ چرچ — تصویر رمضان رفیق

ٹرام سے ایک اور چرچ — تصویر رمضان رفیق
ٹرام سے ایک اور چرچ — تصویر رمضان رفیق

لیونارڈو ڈا ونچی کی مشہور پینٹنگ دی لاسٹ سپر (آخری عشائیہ)۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔
لیونارڈو ڈا ونچی کی مشہور پینٹنگ دی لاسٹ سپر (آخری عشائیہ)۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔

سانٹا ماریہ چرچ کی دیوار پر لیونارڈو ڈا ونچی کی بنائی ہوئی دیومالائی شہرت کی حامل پینٹنگ دی لاسٹ سپر (آخری عشائیہ) موجود ہے، جس میں حضرت عیسیٰ اپنے حواریوں کے ہمراہ بیٹھے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ ان میں سے ایک حواری ان سے غداری کرے گا۔

آرک آف پیس اور صفورزا کا قلعہ

شہر کے دروازے کو ایک آرک یا محراب کی صورت میں بنایا گیا ہے. اسے آرک آف پیس کہا جاتا ہے. ٹرام کے راستے پر اس آرک کو دیکھا جا سکتا ہے، اگر تھوڑی ہمت کریں تو یہ آرک صفورزا کے قلعے کے بالکل پیچھے ہے، میلان کیتھڈرل سے باآسانی یہاں تک پیدل آیا جا سکتا ہے۔

ٹرام نے ہمیں چودھویں اور پندرہویں صدی کے اس قلعے کے پاس اتارا. قلعے کے مینار اور برج تاریخ کے جبر کی بے شمار داستانیں سینے میں سمیٹے سیاحوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔

قلعے کے مرکزی دروازے سے باہر ایک فوارے پر لوگ اس گرم دن میں راحت ڈھونڈے بیٹھے تھے۔ ہم نے قلعہ میوزیم میں اے سی کا سراغ پایا تو میوزیم دیکھنے کو لپکے۔ ابھی ریسیپشن پر جا کر پسینہ ہی خشک کر پائے تھے کہ خاتون ریسپسنشٹ مخاطب ہوئیں، "جی آپ کی کیا خدمت کر سکتی ہوں؟"۔ ہم نے کہا جی قلعے کا میوزیم دیکھنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا یہ دیکھیے لکھا ہوا کہ میوزیم بند ہو چکا۔ واقعی وہاں کچھ عبارت اٹالین میں درج تھی، لیکن کیا تھی یہ پتہ نہیں۔ ہم نے اس عبارت کو پڑھنے میں کچھ وقت لیا، پھر جب کچھ اور نہ بن پڑا تو باقی قلعہ دیکھنے باہر نکل آئے۔

آرک آف پیس — تصویر رمضان رفیق
آرک آف پیس — تصویر رمضان رفیق

صفورزا کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق
صفورزا کا قلعہ — تصویر رمضان رفیق

قلعے کے سامنے موجود فوارہ — تصویر رمضان رفیق
قلعے کے سامنے موجود فوارہ — تصویر رمضان رفیق

اٹلی میں ٹریفک

آپ نے اکثر سن رکھا ہوگا کہ اٹلی اور پاکستان کی ٹریفک ملتی جلتی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ بلاشبہ پاکستان جیسی بری ٹریفک کا کہیں بھی ثانی نہیں۔ ہاں اگر دیگر یورپ کا مقابلہ اٹلی سے کیا جائے تو یہاں پر تیز گاڑیاں چلانے والے، جلد ہارن بجا دینے والے بے صبرے ڈرائیور قدرے زیادہ ہیں۔ ہم بذریعہ کار سوئٹزرلینڈ سے میلان آئے تھے، اور میلان سے وریونہ، وینس اور واپسی فرانس گئے، اس لیے اٹلی کی سڑکوں پر کم و بیش ایک ہزار کلومیٹر گاڑی چلانے کے بعد بس اتنا سا فرق ہی محسوس ہوا۔

میرے لیے میلان اٹلی کا پہلا شہر تھا. یہاں جو کچھ میں نے دیکھا اس کا خلاصہ کچھ ایسا ہے کہ لوگ کھلے دل سے ملتے ہیں، اٹلی کا مزاج کچھ کچھ پاکستانی ہے، کیونکہ موسم یورپ کے اکثر ممالک سے زیادہ گرم رہتا ہے، اس لیے ایسی پھل سبزیاں بکثرت دکھائی دیتی ہیں جو ہم پاکستان میں دیکھنے کے عادی ہیں۔

سڑکوں پر ڈرائیور کبھی کبھی ہارن بھی بجانے کا شوق پورا کر لیتے ہیں۔ یہ بہت سے ممالک سے زیادہ سستی منزل ہے۔ مناسب پیسوں میں مناسب ہوٹل ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔

اس لیے اگر آپ کا بجٹ اجازت دے اور آپ اپنی چھٹیاں تاریخ، آرٹ اور آرکیٹیکچر دیکھتے ہوئے گزارنا چاہتے ہیں، تو یہ آپ کے لیے ایک موزوں جگہ رہے گی۔


رمضان رفیق کوپن ہیگن میں رہتے ہیں، اور ایگری ہنٹ نامی ویب سائٹ چلاتے ہیں۔ ان کا بلاگ یہاں وزٹ کریں: تحریر سے تقریر تک


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔