'آئین میں فرقہ واریت ایک آمر نے متعارف کرائی'
اسلام آباد: سپریم کورٹ کے ججز نے اس بات کی جانب نشاندہی کی ہےکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے میں لفظ فرقہ واریت موجود نہیں ہے، جو کہ بعد میں ایک آمر نے آئین میں ترمیم کے دوران متعارف کروایا۔
چیف جسٹس آف پاکستان ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 17 رکنی فل کورٹ بینچ نے اٹھارویں اور اکیسویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کے خلاف کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ فرقہ واریت ایک لعنت ہے اور اسے قرآن میں مرض قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1985ء سے پہلے ملک میں کوئی فرقہ واریت نہیں تھی، انہوں نے استفسار کیا کہ آئین میں فرقہ واریت کا لفظ شامل ہونے کے بعد ملکی حالات آج کہاں پر ہیں؟
اپنے ریماکس میں انہوں کہا کہ ’’اگر ہم (بحیثیت ادارہ) فرقہ پرستی کریں گے تو ہم اپنے ہاتھوں اپنی موت کا سامان کریں گے اور ہم گواہ ہیں کہ یہ سب آج کی اس مسلم دنیا میں ہورہا ہے۔‘‘
کیس کی سماعت کے دوران وفاق کے وکیل خالد انور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوسکتا اور جو تبدیل ہوجائے وہ بنیادی ڈھانچہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں بنیادی ڈھانچے کے نکتے پر آئینی ترمیم کالعدم نہیں ہوسکتی۔
جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کا کلی اختیار رکھتی ہے؟
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کا المیہ ہمارے ہاں موجود نہیں ہے اور ملک میں بادشاہت نہیں ہے کہ حقوق دے کر واپس لے لئے جائیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آئین بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اگر بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے تو پھر روایات بھی نہیں ہونگی۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پارلیمنٹ بنیادی حقوق کو کم یا ختم کر سکتی ہے؟
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کو آئین کا حصہ 1985 میں بنایا گیا اور آئین میں فرقہ واریت کا لفظ آمر نے متعارف کرایا۔
کیس کی سماعت جمعرات کو پھر ہوگی اور وفاقی وکیل خالد انور اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔