خیبرپختونخوا: دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کی تجویز مسترد
پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی تجویز پیش کی ہے جسے سہ فریقی اتحاد نے مسترد کرتے ہوئے نگران سیٹ اپ کے تحت نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پشاور میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی قیادت میں آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی (جے آئی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی) اورعوامی جمہوری اتحاد کے رہنماؤں نے شرکت کی۔
کانفرنس کے شرکاء نے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے پر اتفاق کیا،جس کے لیے صوبائی حکومت پشاور ہائیکورٹ کو خط لکھے گی۔
وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا مزید کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسران (آر اوز) الیکشن کمیشن کےماتحت ہیں اور صوبائی حکومت انھیں احکامات نہیں دے سکتی۔
انھوں نے دھاندلی کے الزامات کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت دھاندلی کرتی تو کئی اہم امیدواروں کو شکست نہ ہوتی، جس دن الیکشن ہوتا ہے تو ساری مشینری اور انتظامیہ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتی ہے۔
پرویز خٹک کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہوگا، اسے تسلیم کیا جائے گا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی حکومت پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے کےلیے خط لکھے گی جبکہ انتخابات کے دوران بد انتظامی اور بدنظمی کی تحقیقات کے لیے چیف سیکرٹری خیبر پختونخواہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی۔
اپوزیشن جماعتوں کو آئندہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں لانے کے لیے سینیئر وزیر عنایت اللہ کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس کے ممبران میں صوبائی وزیر اطلاعات مشتاق غنی، صوبائی وزیر شاہ فرمان، صحت کے صوبائی وزیر شہرام تراکئی شامل ہیں۔
صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے جوڈیشل انکوائری یا بعض حلقے کھولنے سے متعلق ہر فیصلہ قبول ہوگا۔
دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) اور جمعیت علما ئے اسلام (ف) پر مشتمل سہ فریقی اتحاد نے اے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور کل یعنی 10 جون کو صوبہ بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا۔
سہ فریقی اتحاد کے سربراہ میاں افتخار حسین کے مطابق حکومت کی اے پی سی بدنیتی پر مبنی ہے اور ہڑتال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔
میاں افتخار حسین نے پریس کانفرنس کے دوران نگران سیٹ اپ کے تحت نئے انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔
خیبر پختونخوا حکومت کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اے ین پی (ولی) نے بھی شرکت نہیں کی۔