پاکستان

عاشورہ: صدر کی '11 سیل دکانوں‘ میں ڈکیتی

پولیس کے مطابق 9 اور 10 محرم کے جلوسوں کی سیکیورٹی کیلئے دکانوں کوسیل کیا گیا تھا، جن میں سے 11 دکانوں میں ڈکیتی ہوئی.

کراچی: 9 اور 10 محرم الحرام کے جلوسوں کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کی جانب سے سیل کی گئی صدر اور بولٹن مارکیٹ کی 11 دکانوں میں ڈکیتی کا انکشاف ہوا ہے.

پولیس کا ماننا ہے کہ ملزمان نے عاشورہ کے جلوسوں کے اختتام پر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی واپسی کے بعد ہفتے کے روز ڈکیتی کی۔

کراچی ہول سیل میڈیسن مارکیٹ کے ترجمان کے مطابق ہفتے کی شام تک سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود ایم اے جناح روڈ پر قائم ادویات کی ہول سیل مارکیٹ، کچی گلی میں 8 دکانوں جبکہ صدر میں 3 دکانوں کو لوٹا گیا۔

واضح رہے کہ عاشورہ کی چھٹیوں کے باعث پیر کے روز سے معمول کے کاروبار کا آغاز ہونا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ ’چوکیدار نے مارکیٹ ایسوسی ایشن کو اتوار کے روز بتایا کہ 8 دکانوں کے تالے توڑے گئے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دکانوں کے لاک اس ماہرانہ انداز میں توڑے گئے کہ پولیس کی جانب سے لگائی جانے والی سیل اپنی جگہ برقرار ہے۔

اسی طرح تاجروں کا کہنا تھا کہ صدر میں 3 دکانوں سے لاکھوں روپے کی گھڑیاں چوری کی گئیں.

ترجمان نے بتایا کہ ایسا اُس وقت ہوا ہے جب علاقے میں انتہائی سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے حوالے سے انتہائی سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور اس دوران ایسا ہونا بہت مشکل ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ موقع سے اہم شواہد ملے ہیں جن سے وہ بہت جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔

ایس پی سٹی ذیشان صدیقی کے مطابق ’گروپ کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ بہت جلد اُن تک پہنچ جائیں گے۔‘

انھوں ںے کہا کہ دراصل پولیس محدود نفری کے باوجود جلوسوں اور مجالس کی سیکیورٹی انتظامات میں مصروف تھی۔ ’میرا خیال ہے کہ عاشورہ کے جلوسوں کے اختتام پر پولیس اہلکاروں کی واپسی کے بعد ڈکیتی کی گئی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے تاجروں اور ان کی ایسوسی ایشن سے تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ بیشتر دکانوں کو معمولی رقم سے محروم کیا گیا۔