دنیا

اسکاٹ لینڈ کے امام کی ممتاز قادری کی تعریف

مولانا حبیب الرحمٰن نے ممتاز قادری کے نام کے ساتھ 'رحمۃ اللہ علیہ' (یعنی ان پر اللہ کی رحمت ہو) بھی تحریر کیا۔

گلاسگو: اسکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی مسجد کے امام نے مقامی مسلم کمیونٹی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے عمل کو احسن قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی ایک مسجد کے امام مولانا حبیب الرحمٰن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ ممتاز قادری کو پھانسی دیئے جانے پر شدید پریشان ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی

مولانا حبیب الرحمٰن نے اپنے پیغام میں عدالت سے سزا پانے والے ممتاز قادری کے نام کے ساتھ 'رحمۃ اللہ علیہ' (یعنی ان پر اللہ کی رحمت ہو) بھی تحریر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں آج اپنا درد نہیں چھپا سکتا، ایک سچے مسلمان کو سزا دے دی گئی۔

واضح رہے کہ ممتاز قادری پنجاب کی ایلیٹ فورس کے ایک کمانڈو تھے جنھیں گذشتہ ماہ 29 فروری کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، ممتاز قادری پر 2011 میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

مزید پڑھیں : ممتاز قادری کی پھانسی پر متعدد شہروں میں احتجاج

ممتاز قادری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں 4 جنوری 2011 کو سلمان تاثیر کو 28 گولیاں مار کر قتل کیا تھا، جنھیں اُسی برس یکم اکتوبر کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔

ممتاز قادری نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سلمان تاثیر کو توہین کے قانون کی مخالفت پر قتل کیا۔

اسکاٹ لینڈ کے امام نے ممتاز قادری کے عمل کا موازنہ جنگ عظیم دوم کے دوران ہٹلر کی نازی پارٹی کے فرانس پر قبضے اور فرانسیسی مزاحمت کے ساتھ کیا۔

انہوں نے لکھا کہ جب فرانس پر نازیوں کا قبضہ ہوا، تو فرانسیسیوں نے قوم کے تحفظ کے لیے ہر وہ کام کیا جو وہ کر سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ممتاز قادری آبائی گاؤں میں سپرد خاک

انہوں نے کہا کہ وہ فرانسیسی قومی ہیرو تھے، ممتاز قادری نے پاکستان کی آزادی کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں، یہ کسی انفرادی شخص کا نہیں بلکہ قوم کی شناخت اور اسلامی اقدار کا معاملہ ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے مقدمے کے حوالے سے ہونے والے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والے افراد کے اہلخانہ کو دیت کی رقم لینے پر مجبور کیا گیا جبکہ ممتاز قادی کی پھانسی غم اور تکلیف کا ایک ذریعہ ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے (سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی) کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس نے جنوری 2011 میں لاہور میں 2 پاکستانیوں کو قتل کیا تھا، بعد ازاں مقتول افراد کے اہل خانہ کو 20 لاکھ ڈالر (تقریبا 20 کروڑ پاکستانی روپے) دیت کی ادائیگی کی گئی اور ریمنڈ ڈیوس رہا ہو کر امریکا چلے گئے جس پر پورے ملک میں شدید تنقید کی گئی۔

اسکاٹ لینڈ کے امام نے ممتاز قادری کو بھائی قرار دیا اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے عمل کو امت کی جانب سے ادا کی گئی ذمہ داری قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ممتاز قادری کی پھانسی مسلم امت اور پاکستانی قوم کی مجموعی ناکامی ہے۔

مولانا حبیب الرحمٰن کی جانب سے بھجے گئے پیغام پر کئی افراد نے سوالات بھی اٹھائے کہ وہ عدالتوں سے مجرم قرار دیئے گئے ایک فرد کو نمایاں کیوں کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق ایک اور شخص نے کہا کہ ممتاز قادری نے قانون ہاتھ میں لیا، اس لیے انھیں ہیرو نہیں بنانا چاہیے۔

بعد ازاں مولانا حبیب الرحمٰن نے وضاحت دی کہ ان کے بیان کو سیاق وسباق سے ہٹا کر پیش کیاگیا۔

بی بی سی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مولانا حبیب الرحمٰن کے مطابق وہ سزائے موت کی مخالفت میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔

مولانا حبیب الرحمن نے کہا کہ سلمان تاثیر کے قتل کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی، چاہے میں ان کے خیالات سے اتفاق کروں یا اختلاف، ایک امام اور انسان کی حیثیت سے میں نے ممتاز قادری کو دی جانے والے پھانسی کے طریقے پر بیزاری کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ان کو پھانسی اسلامی اصولوں اور احکامات کے مطابق نہیں دی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اسکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی عبادت گاہ کے امام کے بیان کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔