پاکستان

توہین مذہب قانون کا غلط استعمال:’علما متفقہ طور پر مذمت کریں‘

توہین مذہب کے الزامات کے تحت کسی کو قتل کرنا شریعت اور پاکستان کے قانون کے خلاف ہے، مفتی نعیم

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام مکاتب فکر کے علما کو توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے تشدد کے واقعات کی متفقہ طور پر مذمت کرنی چاہیے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رُخ‘ میں بات کرتے ہوئے مفتی نعیم نے کہا کہ علما کو یہ بیان بھی جاری کرنا چاہیے کہ توہین مذہب کے الزامات کے تحت کسی کو قتل کرنا شریعت اور پاکستان کے قانون کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک میں توہین مذہب کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں اور ملک میں توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، جس سے اس قانون کی وقعت کم ہوتی جارہی ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں: گستاخی کا الزام، ساتھیوں کے تشدد سے طالبعلم ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک سے مذہبی انتہا پسندی اسی صورت میں ختم ہوسکتی ہے جب عدالتی نظام کو مضبوط کیا جائے، اگر کوئی شخص توہین مذہب کا مرتکب پایا جائے تو اسے سزا دی جائے نہ کہ عدالت میں کیس کو سالوں تک لٹکایا جائے اور اگر جس پر الزام لگایا گیا وہ معصوم ثابت ہو تو اسے رہا کیا جائے۔‘

مفتی نعیم نے کہا کہ ’اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ میڈیا مختلف مکاتب فکر کے علما کو ایک دوسرے کے مخالف کرنا بند کرے، میڈیا علما کو آپس میں طوطوں کی طرح لڑاتا ہے، جب تک علما کے درمیان اتحاد نہیں ہوگا اس طرح کے واقعات پیش آتے رہیں گے۔‘

واضح رہے کہ دو روز قبل عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم مشعال خان کی موت ہوگئی تھی جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوا۔

مزید پڑھیں: طالبعلم کا قتل: چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا

ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ہلاک ہونے والے طالب علم پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا۔