گستاخی کا الزام، ساتھیوں کے تشدد سے طالبعلم ہلاک: پولیس

اپ ڈیٹ 13 اپريل 2017

ای میل

مردان: صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم کی موت ہوگئی جبکہ ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔

ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ہلاک ہونے والے طالب علم پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی الزام کے تحت مشتعل طلبہ کے ایک گروپ نے مذکورہ طالب علم پر تشدد کیا، اس دوران فائرنگ بھی کی گئی، تشدد کے نتیجے میں طالب علم ہلاک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی: طلبہ تنظیموں میں تصادم، 5طلبہ زخمی

طالب علم کی لاش کو پولیس نے تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کردیا۔

مردان کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید کے مطابق اس واقعے کے بعد سے 45 افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

واقعے سے قبل مذکورہ دونوں طالب علموں کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں تھا اور نہ ہی پولیس ان دونوں کے خلاف 'توہین' کے الزامات کی تحقیقات کررہی تھی۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ طلبہ یونیورسٹی کی طلبہ تنظیموں کے درمیان گردش کرنے والی افواہوں کو سن کر مشتعل ہوئے۔

ہلاک ہونے والا طالب علم شعبہ ابلاغ عامہ میں چھٹے سیمسٹر کا طالب علم تھا۔

دوسری جانب اسسٹنٹ رجسٹرار کے مطابق واقعے کے بعد یونیورسٹی سے متصل ہاسٹلز کو خالی کرالیا گیا جبکہ عبدالولی خان یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کردیا گیا۔

مزید پڑھیں: پنجاب کے بعد پشاور میں طلبہ تنظیموں میں تصادم
مشعال کے ہاسٹل کا کمرہ— فوٹو ڈان نیوز
مشعال کے ہاسٹل کا کمرہ— فوٹو ڈان نیوز

عینی شاہد کا بیان

موقع پر موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مشعال اور عبداللہ جو کہ ابلاغ عامہ کے طالب علم تھے، ان دونوں پر فیس بک پر احمدی فرقے کا پرچار کرنے کا الزام عائد کیا جارہا تھا۔

عینی شاہد کے مطابق مشتعل طلبہ نے ہاسٹل کے کمرے میں عبداللہ کو گھیرے میں لیا اور اسے زبردستی قرآنی آیات پڑھائیں اور اس کے بعد اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔

اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور عبداللہ کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا جس کے بعد مشتعل ہجوم نے مشعال کی تلاش شروع کردی جو کہ اس وقت ہاسٹل میں ہی موجود تھا۔

عینی شاہد کے مطابق ہجوم نے مشعال کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گولی بھی ماری جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا۔

اس واقعے کی سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشعال زمین پر بے حس پڑا ہوا ہے اس کے ارد گرد لوگ کھڑے ہیں جبکہ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی نظر آرہے ہیں جبکہ لوگ اسے لاتیں بھی مار رہے ہیں۔

ویڈیو کے آخر میں ایک نامعلوم شخص اس کے کپڑے بھی اتار دیتا ہے۔

مشعال کے ایک ٹیچر نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ 'وہ کافی پرجوش اور ذہین طالب علم تھا، ہمیشہ ملک کے سیاسی نظام کی شکایت کرتا تھا تاہم میں نے کبھی اسے مذہب کے حوالے سے کوئی متنازع بات کرتے نہیں سنا'۔

پولیس صورتحال کو قابو میں نہ کرسکی

عبدالولی خان یونیورسٹی کا شعبہ ابلاغ عامہ ہاسٹل سے تقریباً آدھا کلو میٹر دور ہے جبکہ ہاسٹل کے وارڈن محمد علی کا یہ کہنا ہے کہ اس نے تین سے چار ہزار طالبعلموں کو آتا دیکھ کر دروازے بند کردیے تھے لیکن ہجوم نے دروازہ توڑ دیا اور اندر آگئے۔

محمد علی نے مزید بتایا کہ 'انہوں نے مشعال کو ڈھونڈ لیا اور اس پر فائرنگ کی پھر اسے مارنا شروع کردیا'۔

طالبعلموں کا کہنا ہے کہ پولیس کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی تھی اور اس وقت پولیس کیمپس میں موجود بھی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پولیس نے طالب علم کو کیوں نہیں بچایا تو طالب عملوں نے بتایا کہ ہجوم اتنا بڑا تھا کہ پولیس کے لیے ان پر قابو پانا مشکل تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 28 مارچ کو صوبہ خیبرپختونخوا کی اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) اور اسلامی جمعیت طلبہ (آئی جے ٹی) کے درمیان تصادم کا واقعہ سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں 2 طلبہ زخمی ہوگئے تھے۔

یہ تصادم مبینہ طور پر لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کے معاملے پر ہوا تھا۔

قبل ازیں 21 مارچ کو پنجاب یونیورسٹی میں ثقافتی پروگرام کے دوران طلبہ کے 2 گروہوں میں ہونے والے تصادم میں 5 طالب علم زخمی ہوگئے تھے۔

جامعہ پنجاب میں طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا، تقریب کے دوران دوسری تنظیم کے طالب علموں نے دھاوا بولتے ہوئے ڈنڈے اور پتھر برسانے کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔