پاکستان

تاریخ اس فیصلے کوقبول نہیں کرےگی، نامزد عبوری وزیراعظم

تمام منصوبوں کو اور اہداف کو حاصل کیا جائے گا اور پاکستان کی معیشت کو مضبوط کریں گے، شاہد خاقان عباسی

پاکستان کے نامزد عبوری وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے فیصلوں پر عمل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو قبول نہیں کیا اور تاریخ بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔

اسلام آباد میں مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت تمام منصوبے اور تمام اہداف حاصل کرے گی اور پاکستان کی معشیت کو مضبوط اور پاکستان کے مسائل حل ہوجائیں گے۔

عبوری وزیراعظم مقرر کرنے کے فیصلے پر کیے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ لیڈرشپ کا فیصلہ تھا لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پارٹی میں کوئی امیدوار نہیں تھا اور پارٹی نے فیصلہ کیا اور سب نے اس کو قبول کیا۔

مزید پڑھیں:شہباز شریف کو مستقل،شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم بنانےکا فیصلہ

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میں تمام اراکین اسمبلی موجود تھے کسی کو ڈھونڈنا نہیں پڑا اور پارٹی میں کوئی دراڈ نہیں ہے۔

نامزد عبوری وزیراعظم نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ اس فیصلے کو عوام نے قبول نہیں کیا اور تاریخ بھی اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔

قبل ازیں مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس نواز شریف کی صدارت میں ہوا جہاں سابق وزیراعظم نے شاہد خاقان عباسی کو عبوری اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو مستقل وزیراعظم بنانےکا بھی اعلان کیا۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا جس کے بعد نواز شریف عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میں کرپشن کی وجہ سے نااہل نہیں ہوا، فخر ہے نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، میرے دامن پر کوئی داغ یا دھبہ نہیں ہے، کوئی کِک بیک یا کمیشن نہیں لیا۔‘

یہ بھی پڑھیں:’صرف ایک آدمی کا احتساب، باقی سب صادق اور امین ہیں؟‘

انھوں نے نااہلی قرار دینے کی وجہ پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جس وجہ سے مجھے نااہل قرار دیا گیا وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے، جب میں نے تنخواہ لی ہی نہیں تو اسے ظاہر کیسے کرتا، یہاں جب آپ کچھ لے لیں تو بھی مسئلہ اور نہ لے تو بھی مسئلہ ہے، میں نے اپنی 3 نسلوں کا حساب دیا لیکن کیا صرف میرے خاندان کا حساب ہونا چاہیے؟ کیا ملک میں باقی سب صادق اور امین ہیں؟‘

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’بدقسمتی سے کچھ نو وارد سیاستدانوں نے الزامات اور تہمتوں کی حد کردی، یہ نو وارد سیاستدان اب خود الزامات میں گھرے ہوئے ہیں، کچھ لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں مستعفی ہوجاؤں لیکن میں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ پھولوں کی سیج نہیں، کانٹوں کا بستر ہے، میرا ضمیر صاف ہے، اگر ضمیر ملامت کرتا کوئی خورد برد یا خیانت کی تو خود استعفیٰ دے دیتا۔‘