شائع اکتوبر 28, 2017 07:24pm

زیادہ پانی پینا خواتین کی صحت کے لیے بہتر؟

ویب ڈیسک

عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پینے والے افراد مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں، یا پھر ان میں ہاضمے اور پیشاب وغیرہ کی بیماریاں ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

تاہم زائد مقدار میں پانی پینا مرد و خواتین کی صحت پر بھی الگ الگ اثرات مرتب کرتا ہے۔

یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ یومیہ ڈیڑھ لیٹر پانی پینے والے مرد و خواتین کا نضام ہاضمہ درست رہتا اور ان میں پیشاب و مثانے کی بیماریوں کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

اور اب ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ وہ خواتین جو ’یورینری ٹریکٹ انفیکشن‘ (یو ٹی آئی) جسے اردو میں پیشاب کی نالی میں خرابی بھی کہا جاتا ہے کہ مرض میں مبتلا ہیں، ان کے لیے زیادہ پانی استعمال کرنا بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روزانہ کتنا پانی پینا چاہئے؟ معمہ حل ہوگیا

سائنس ڈیلی میں شائع تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایڈوانس سائنس سے متعلق سالانہ ہونے والی نمائش ’آئی ڈی ویک‘ 2017 میں پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یومیہ 6 گلاس پانی پینے والی خواتین یو ٹی آئی انفیکشن کے خطرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کی ایک ٹیم نے 45 سے 55 سال کی عمر کی 140 خواتین پر ایک سال تک تجربہ کیا۔

خواتین کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا گیا، یہ وہ خواتین تھیں، جنہیں پہلے ہی پیشاب کی نالی میں خرابی کی شکایت تھی۔

ماہرین نے خواتین کے ایک گروپ کو یومیہ صرف 5 گلاس پانی پینے کے لیے کہا، جب کہ دوسرے گروپ کو یومیہ 6 سے 11 گلاس پانی پینے کے لیے ہدایت دی گئی۔

مزید پڑھیں: روزانہ 8 گلاس پانی پینا ضروری؟

ماہرین نے ایک سال بعد خواتین میں یو ٹی آئی انفیکشنز کا جائزہ لیا۔

نتائج سے پتہ چلا کہ جن خواتین نے کم مقدار میں پانی استعمال کیا، ان میں یو ٹی آئی یعنی پیشاب کی نالی میں انفیکشن پیدا ہونے کے خطرات موجود تھے۔

جب کہ جن خواتین نے یومیہ 6 سے 11 گلاس پانی استعمال کیا، ان میں اس بیماری کے پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوچکے تھے، یا وہ انتہائی کم سطح پر تھے۔

ماہرین کی ٹیم نے تجویز دی کہ زندگی میں ایک بار بھی پیشاب کی نالی میں خرابی کی شکایت کا سامنا کرنے والی خواتین کو یومیہ کم سے 6 گلاس یا دوسرے الفاظ میں ڈیڑھ لیٹر پانی پینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: زیادہ پانی پینا جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟

ماہرین کے مطابق اگر خواتین ڈیڑھ لیٹر سے زیادہ پانی استعمال کریں بھی تو کوئی خطرہ نہیں، تاہم اس مقدار سے کم پانی استعمال نہ کیا جائے۔

خیال رہے کہ ’یو ٹی آئی‘ جسے پیشاب کی نالی میں خرابی کہا جاتا ہے، وہ صرف پیشاب کی خرابی کی بیماری نہیں۔

اس بیماری سے ہی گردے، پتے، مثانے اور دیگر اندرونی اعضاء میں انفیکشن اور خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

Read Comments