حافظ محمد سعید کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات میں توسیع
لاہور ہائی کورٹ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی ممکنہ گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر حکومت کو جواب داخل کرانے کے لیے مہلت دے دی اور ساتھ ہی حافظ محمد سعید کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات میں توسیع کر دی۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس امین الدین خان نے حافظ محمد سعید کی درخواست پر سماعت کی جس میں گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومت کے وکلا نے جواب داخل کرانے کے لیے وقت مانگا جس پر عدالت نے انہیں مہلت دے دی۔
درخواست میں حافظ سعید کے وکیل اے ڈوگر نے دعوی کیا تھا کہ امریکا اور بھارت کے دباؤ پر پاکستانی حکومت ممکنہ طور پر درخواست گزار کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے جبکہ امریکا نے پاکستان کو حافظ محمد سعید کی گرفتاری کا کہہ بھی دیا ہے۔
مزید پڑھیں: حافظ سعید کی رہائی:پاکستان کو نتائج بھگتنا ہوں گے، امریکا
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت، امریکا اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے حافظ محمد سعید کو دوبارہ گرفتار یا نظر بند کرسکتی ہے۔
حافظ محمد سعید کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ صوبائی حکومت کو درخواست گزار کی گرفتاری یا نظربندی سے روکا جائے۔
جس پر لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کو جواب داخل کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے حافظ محمد سعید کو گرفتار نہ کرنے کے احکامات میں توسیع کر دی۔
درخواست پر مزید کارروائی 4 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔
خیال رہے کہ ہندوستان کی جانب سے 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کا ذمہ دار حافظ سعید کو ٹھہرایا گیا تھا جہاں 168 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ امریکا نے انھیں دہشت گرد کا درجہ دیا تھا۔
امریکا کے محکمہ انصاف نے حافظ سعید کی سزا اور گرفتاری کے حوالے سے معلومات دینے پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کردیا ہے۔
یاد رہے کہ حافظ سعید کو رواں سال 31 جنوری کو 90 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی حافظ سعید کی رہائی پر تشویش، دوبارہ گرفتاری کا مطالبہ
بعد ازاں ان کی نظر بندی میں مزید 3 ماہ کی توسیع کی گئی تھی جس کی میعاد 27 جولائی کو ختم ہونی تھی، تاہم 31 جولائی کو پنجاب حکومت نے نیا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس میں مزید 2 ماہ کی توسیع کردی۔
گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ کے نظرثانی بورڈ نے حافظ سعید کی نظربندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کی، تاہم ان کے دیگر 4 ساتھیوں کی نظربندی میں توسیع کی حکومتی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔
حافظ سعید کو دو روز قبل 10 ماہ کی طویل نظر بندی کے بعد عدالت کے حکم پر رہا کردیا گیا تھا جس پر بھارت اورامریکا دونوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
خفیہ رائے شماری کا قانون چیلنج
سینیٹ کے حالیہ انتحابات کے نتائج اور خفیہ رائے شماری کا قانون لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔
آئینی درخواست عوامی تحریک کے رہنما اشتیاق چوہدری ایڈووکیٹ نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق سینیٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری سے ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ خفیہ رائے شماری غیر آئینی ہے اور قانون کے منافی بھی ہے۔
مزید پڑھیں: الیکشن کمیشن نے سینیٹ انتخابات میں ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا نوٹس لے لیا
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت عالیہ سے استدعا کی کہ عدالت الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 122 کالعدم قرار دے اور عدالت سینیٹ کے انتخابات کے نتائج بھی کالعدم قرار دے۔
اس کے علاوہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت خفیہ رائے شمارے کو کالعدم قرار دے۔
ہارس ٹریڈنگ کے خلاف الیکشن کمیشن سے جواب طلب
ایک علیحدہ کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے حالیہ سینیٹ انتحابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کے حوالے سےدائر درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کی درخواست پر سماعت کی جس میں سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی نشاندہی کی گئی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل باقر حسین ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات پر الیکشن کمیشن نے نوٹس لیا ہے جبکہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ افسوس ناک عمل ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ سینیٹ انتحابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام نہ کرنا الیکشن کمیشن کی ناکامی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات: ’ہارس ٹریڈنگ میں پی ٹی آئی کی بیشتر خواتین ارکان ملوث‘
درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ ہارس ٹریڈنگ کے الزام میں دائر درخواست کے حتمی فیصلے تک کامیاب سینٹرز کے نوٹیفکیشن معطل کیے جائیں اور الزامات ثابت ہونے پر سینیٹ انتحابات 2018 کالعدم قرار دیا جائے۔
مذکورہ درخواست پر مزید کارروائی 2 اپریل کو ہوگی۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے ہونے والے سینیٹ انتخابات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے سربراہان کی جانب سے مخالف سیاسی جماعتوں پر ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی بازگشت کے زور پکڑتے ہی پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کی حریف جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
نابینا افراد پر پولیس تشدد کے خلاف درخواست
لاہور ہائی کورٹ نے علیحدہ کیس میں پولیس کی جانب سے نابینا افراد پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف دائر درخواست پر پنجاب حکومت، پولیس اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور افسوس کا اظہار کیا کئی دہائیوں سے پولیس کا یہی رویہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی متفرق درخواست پر سماعت کی، جس میں نابینا افراد پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران جسٹس شجاعت علی خان نے پنجاب حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا پولیس کے پاس مار پیٹ کے علاوہ کوئی طریقہ نہیں؟ درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نابینا افراد اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کررہے ہیں جبکہ حکومت نے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دے رہی۔
درخواست میں افسوس کا اظہار کیا گیا تھا کہ حکومت نے نابینا افراد کی داد رسی کرنے کے بجائے ان پر تشدد کیا اور پولیس نے نابینا افراد کو گرفتار کرلیا، اس میں قانونی نکتہ اٹھایا گیا تھا کہ احتجاج کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور پر امن احتجاج کرنے والوں پر تشدد آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ نابینا افراد پر تشدد کرنے کا حکم دینے والے اور اس پر عمل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
عدالت نے فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے درخواست پر مزید کارروائی 27 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔
پنجاب بینک کے صدر کی تقرری کے خلاف درخواست
اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بینک کے صدر نعیم الدین کی تقرری کے خلاف درخواست پر پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے مقامی شہری علی ندیم کی درخواست پر سماعت کی، جس میں پنجاب بینک کے صدر کے عہدے پر تقرری کو چیلنج کیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل عامر سعدراں ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب بینک کے صدر نعیم الدین کی تقرری میرٹ سے ہٹ کر کی گئی اور نشاندہی کی کہ پنجاب بینک کی تقرری کے لیے کسی بھی فنانشنل ادارے کا بطور سینئر نائب صدر پانچ سالہ تجربہ ضروری ہے۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ تاہم نعیم الدین مطلوبہ شرط پر پورا نہیں اترتے، اس کے علاوہ درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا کہ پنجاب بینک کے صدر کی تقرری پانچ برس کے لیے ہوتی ہے لیکن نعیم الدین کی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد اس میں توسیع دی گئی۔
وکیل نے انکشاف کیا کہ 2016 میں نعیم الدین نے ذاتی مفاد کے لیے شئیر خریدے اور بینک کو 6 ارب کا نقصان پہنچایا تھا، درخواست میں استدعا کی گئی کہ نعیم الدین کی تقرری کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست پر مزید کارروائی 24 اپریل کو ہوگی۔