پاکستان

صحافیوں پر تشدد کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل انکوائری کا حکم

گزشتہ روز آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں صحافیوں کی جانب سے نکالی گئی جس پر پولیس نے تشدد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحافیوں پر پولیس تشدد کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا۔

صحافیوں پر تشدد سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) کے نمائندے پرویز شوکت اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس عدالت میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عالمی یوم آزادی صحافت پر اسلام آباد میں صحافیوں کی جانب سے نکالی گئی ریلی پر پولیس نے تشدد کیا تھا، جس میں متعدد صحافی زخمی ہوگئے تھے، اس واقعے کے بعد چیف جسٹس نے معاملے کا نوٹس لیا تھا۔

یاد رہے کہ ہر سال دنیا بھر میں 3 مئی کو آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کا آغاز 1991 میں یونیسکو کے زیر اہتمام ایک سیمینار میں افریقی صحافیوں کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ڈیکلریشن سے ہوا، جسے بعد ازاں اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ طور پر آزادی صحافت کے عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری دے دی۔

اس دن کو منانے کا مقصد دنیا بھر میں آزادی صحافت کے سلسلے میں آگاہی پھیلانا اور قلم کی طاقت کا اظہار کرنا ہے، دنیا بھر میں جمہوری معاشروں کی خوبصورت روایات میں سے ایک تنفید برداشت کرنا بھی ہے، لیکن اس کے باوجود سچ کی ترویج صحافیوں کے لیے بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوجاتی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے خراب صورتحال افریقی اور ایشیائی ممالک کی ہے، جہاں اکثر صحافیوں کی جانوں کو خطرات لاحق رہتے ہیں، گزشتہ دنوں افغانستان میں ہونے والے بم دھماکے میں خاص طور پر صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس حملے کے نتیجے میں 9 صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔