اپ ڈیٹ ستمبر 12, 2018 06:57pm

پاکستان: مخنثوں کے کالج سے پہلے بیچ نے تعلیم مکمل کرلی

انٹرٹینمنٹ ڈیسک

رواں برس اپریل میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں کھولے گئے خواجہ سرا کمیونٹی کے اسکول و کالج سے پہلے بیچ نے تعلیم مکمل کرلی۔

خیال رہے کہ لاہور کے معروف علاقے ماڈل ٹاؤن میں ایک سماجی تنظیم کی جانب سے کھولے گئے ’دی جینڈر گارڈین‘ میں ٹرانس جینڈر افراد کو پرائمری سے لے کر 12 جماعت تک مفت تعلیم دی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں اسی کالج و اسکول کی جانب سے خواجہ سرا کمیونٹی کو تربیتی کورسز بھی مفت کرائے جاتے ہیں۔

خواجہ سرا کمیونٹی کے افراد کو باعزت نوکریاں حاصل کرنے اور معاشرے کا اہم فرد بنانے کے لیے اسکول و کالج کی جانب سے انہیں نہ صرف قانونی تعلیم دی جاتی ہے، بلکہ انہیں ضرورت پڑنے پر قانونی و مالی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔

مخنث اداکارہ کامی سڈ تقریب کی خاص مہمان تھیں—فوٹو: دی جینڈر گارڈین فیس بک

ڈان امیجز کی رپورٹ کے مطابق ’دی جینڈر گارڈین‘ کے پہلے بیچ کی جانب سے تربیتی شارٹ کورسز کی تکمیل کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ دیے جانے کی تقریب منعقد کی گئی۔

تقریب میں پاکستان کی پہلی خواجہ سرا اداکارہ کامی سڈ، سماجی تنظیم اخوت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امجد ثاقب اور معروف گلوکار ابرار الحق سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ٹرانس جینڈر طلبہ کی جانب سے تربیتی کورسز مکمل کرنے کے بعد تقریب میں انہیں سرٹیفکیٹ دیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پہلی بار ’خواجہ سراؤں‘ کے اسکول کا قیام

مجموعی طور پر پہلے بیچ میں 17 طلبہ نے انگریزی زبان سیکھنے، بیوٹیشن، کوکنگ اور اسٹیچنگ سمیت دیگر کورسز کیے۔

تقریب کے دوران جہاں کورسز مکمل کرنے والے تمام طلبہ کو سرٹیفکیٹ دیے گئے، وہیں گلوکار ابرار الحق نے اپنی آواز کا جادو بھی جگایا۔

علاوہ ازیں تقریب میں اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے یہ اعلان بھی کیا کہ ان کی تنظیم اپنا کاروبار شروع کرنے والے خواجہ سرا طلبہ کو آسان شرائط پر قرضے بھی فراہم کرے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سرا اداکارہ کامی سڈ نے اپنی کمیونٹی پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی برادری کے لوگ بھی معاشرے کے دیگر طلبہ کی طرح ہوگئے۔

مختلف سماجی تنظیموں کے تعاون سے منعقد کی گئی اس تقریب میں دیگر عام افراد نے بھی شرکت کی اور خواجہ سرا کمیونٹی کی اخلاقی حمایت کی۔

اسکول انتظامیہ کے مطابق ’دی جینڈرگارڈین’ نہ صرف پاکستان کا پہلا ٹرانس جینڈر تعلیمی ادارہ ہے، بلکہ یہ مسلم ممالک کا بھی پہلا تعلیمی ادارہ ہے، جس میں مخنث افراد کو مفت تعلیم اور تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

پہلے بیچ میں 17 طلبہ نے کورسز کیے—فوٹو: دی جینڈر گارجین فیس بک

Read Comments