’سال کے آخر تک 100 ملین مکعب فٹ یومیہ گیس سسٹم میں شامل ہو جائے گی‘
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کمپنی (ایس این جی پی ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے کہا ہے کہ رواں سال کے آخر تک کمپنی کے سسٹم میں 100 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) قدرتی گیس شامل ہو جائے گی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ کارپوریٹ بریفنگ میں کمپنی کے شیئر ہولڈرز، تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عامر طفیل نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے پیٹرولیم ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے شرکا کو یہ بھی بتایا کہ ایس این جی پی ایل نے اپنے قیام کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ 10 کھرب روپے سے زائد کی آمدنی کا سنگ میل حاصل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون سے ہم رواں برس کے آخر تک اپنے سسٹم میں 100 ملین مکعب فٹ یومیہ تک اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔
ایس این جی پی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ نئے دریافت ذخائر میں سے ولی کے کنویں سے گیس پہلے ہی کمپنی کے نیٹ ورک میں شامل کی جاچکی ہے جب کہ شیوا کے کنویں سے گیس رواں سال کے آخر تک سسٹم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
اس موقع پر توانائی کے شعبے کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کمپنی انتظامیہ نے شرکا کو بتایا کہ مقامی گیس کے وسائل کی کمی کی وجہ سے اب مجموعی گیس سپلائی میں آر ایل این جی کا حصہ (تقریباً) 50 فیصد ہے جو ملک میں رسد و طلب کی صورتحال کے لحاظ سے بڑھ سکتا ہے۔
کمپنی کے نقطہ نظر سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے عامر طفیل نے کہا کہ کمپنی آئندہ پانچ برسوں میں قدرتی گیس مرکز سے انرجی کمپنی میں تبدیل ہونے پر غور کر رہی ہے، کمپنی کا مقصد مختلف اقدامات کرنا ہے، جن میں صحیح وسائل میں سرمایہ کاری، کاروبار کے نئے مواقع کی تلاش، سمجھداری کے ساتھ ترقی اور توانائی کے شعبے میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے ساتھ اپنی بنیاد کی حفاظت کرنا ہے۔
عامر طفیل نے اعتراف کیا کہ کمپنی کے منافع میں 5.66 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی بنیادی وجہ آر او اے (ریٹرن آن ایسٹ) ریٹ میں کمی کے علاوہ وفاقی حکومت کی جانب سے سپر ٹیکس کا نفاذ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس این جی پی ایل کے گیس نقصانات مالی سال 2021 میں 8.60 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2022 میں 8.06 فیصد پر آگئے ہیں۔