فیکٹ چیک: مظاہرین پر فائرنگ کی وائرل ویڈیو وادی تیراہ کی نہیں ہے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ ایکس’ پر متعدد صارفین اور سیاستدانوں نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بچوں کو زمین پر جھکتے ہوئے دکھایا گیا تھا جبکہ پس منظر میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، ان پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو خیبر پختونخوا کے تیراہ ویلی میں مظاہرین پر فائرنگ کی ہے۔
آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر ان دعوؤں کے بعد ایک فیکٹ چیک شروع کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو پہلے بھی، جولائی 2024 میں، اس وقت شیئر کی جا چکی ہے جب بنوں امن ریلی کے دوران مظاہرین پر فائرنگ کی گئی تھی۔
ایک روز قبل تیراہ میں ایک فوجی تنصیب کے باہر مظاہرے کے دوران پرتشدد صورتحال پیدا ہونے پر سات افراد کو گولی مار دی گئی تھی، سیکڑوں قبائلی مظاہرین ایک بچی کی لاش لے کر باغ میدان مرکز میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز لائے تھے، ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بچی زاخا خیل کے علاقے پیر میلہ کے دربار مقام پر مارٹر حملے میں جاں بحق ہوئی تھی۔
صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب نوجوانوں پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے مقامی عمائدین کی جانب سے پُرامن رہنے کی اپیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز کے باہر کھڑی ایک کھدائی کرنے والی مشین کو آگ لگا دی، اور پھر چھاؤنی کے مرکزی دروازے کو زبردستی کھولنے کی کوشش کی، جس کے بعد چوکیداری پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں نے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مبینہ طور پر فائرنگ کی۔
مارٹر حملے یا ہلاکتوں کے بارے میں مقامی انتظامیہ یا فوج کی جانب سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
دعویٰ
اتوار کو پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے ’ ایکس’ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں لوگوں کا ایک گروہ، بشمول بچوں کے، فائرنگ کی آوازوں کے دوران زمین پر جھکا ہوا نظر آتا ہے۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا کہ’ وادی تیراہ میں امن مارچ کے دوران نہتے قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور معصوم بچوں پر فائرنگ کے نتیجے میں سات معصوم افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، شہید اور کئی زخمی ہوئے، کوئی مذہب، ریاست یا قانون جنگ کے دوران بھی معصوم بچوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، سوچیں اور غور کریں: کیا ریاست کا یہ اقدام دہشت گردی کو کم کرے گا یا بڑھائے گا؟ کیا حکمرانوں میں کوئی شعور باقی ہے؟ پشتونوں، گولیوں اور ریاست کے درمیان فاصلہ کہاں تک بڑھے گا؟’
یہ ویڈیو 4:10 بجے شیئر کی گئی اور اسے 2 لاکھ 3 ہزا ر700 بار دیکھا گیا۔
یہی ویڈیو سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے انسٹاگرام پر بھی شیئر کی اور لکھا کہ’ یہ مناظر غزہ کے نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی تیراہ ویلی کے ہیں … معصوم پاکستانیوں کو 8 ارب روپے کے معدنی وسائل کے لیے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔’
یہ پوسٹ 79 ہزار سے زائد بار دیکھی گئی اور 5000 سے زائد ری ایکشنز حاصل ہوئے۔
سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی ’ ایکس’ پر یہ ویڈیو شیئر کی اور لکھا کہ ’ خیبرپختونخوا حکومت اور وزیر اعلیٰ کہاں ہیں؟ یہ سب کچھ آپ کی نگرانی میں ہو رہا ہے۔’
ان کی پوسٹ کو 70 ہزار سے زائد بار دیکھا گیا۔
یہ ویڈیو سابق اینکر عمران ریاض خان، پی ٹی آئی رہنما مرزا شہزاد اکبر، عامر مغل اور دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی شیئر کی، جیسا کہ یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے، مجموعی طور پر اس ویڈیو کو 9 لاکھ سے زائد بار دیکھا گیا۔
یہ کلپ ایک بھارتی پروپیگنڈہ اکاؤنٹ نے بھی شیئر کیا، جہاں اسے تقریباً 10 ہزار بار دیکھا گیا۔
فیکٹ چیک
ویڈیو کی مقبولیت، تیراہ ویلی کی بدلتی صورتحال میں عوامی دلچسپی اور ممکنہ منفی اثرات کے پیش نظر اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے ایک فیکٹ چیک شروع کیا گیا۔
ویڈیو شیئر کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹس کا تجزیہ کرنے پر کچھ صارفین نے اس کلپ کو پرانا قرار دیتے ہوئے نشاندہی کی، ایک ’ ایکس’ صارف نے اسی ویڈیو کی جولائی 2024 کی ایک پوسٹ کا اسکرین شاٹ فراہم کیا، جو ’ بنوں امن مارچ’ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کی گئی تھی۔
مرزا شہزاد اکبر، جنہوں نے یہ ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر رات 8:39 بجے شیئر کی، نے بعد ازاں رات کو وضاحت کی کہ یہ ویڈیو بنوں کی ہے۔
تبصروں میں دی گئی معلومات کی تصدیق کے لیے ’ بنوں امن مارچ’ اور ’NCRC‘ جیسے کلیدی الفاظ کی تلاش کی گئی، جس کے نتیجے میں وہی ویڈیو ایک مقامی نیوز آؤٹ لیٹ کے ذریعے 23 جولائی 2024 کو ایکس پر شیئر کی گئی ملی، جو پشتون حقوق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
کیپشن میں لکھا تھا کہ’ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں بچوں کو بنوں میں گزشتہ جمعہ کو ایک امن احتجاج میں شریک ہوتے دکھایا گیا ہے، جہاں فورسز نے براہ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق اور 27 افراد، جن میں کئی بچے شامل تھے، زخمی ہو گئے۔’
تاہم اس ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ اسے کسی اور ذریعے یا کسی مستند میڈیا ادارے نے شیئر نہیں کیا۔
البتہ، پوسٹ کے کیپشن کی تصدیق کے لیے کیے گئے کلیدی الفاظ کی تلاش کے نتیجے میں ڈان اخبار کا ایک مضمون ملا، جو 20 جولائی 2024 کو شائع ہوا تھا، جس کا عنوان تھا کہ’ بنوں ریلی میں تشدد، ایک شخص جاں بحق، درجنوں زخمی’
رپورٹ کے مطابق، بنوں شہر میں ایک امن ریلی کے دوران فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی، جس میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے، اس ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، جو علاقے میں سیکیورٹی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
عینی شاہدین کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی، جب ہجوم بنوں چھاؤنی کی طرف مارچ کرنے لگا اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے لگائے گئے خیموں کو آگ لگا دی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ’ سرکاری ذرائع کے مطابق خیموں کے قریب کے علاقے سے فائرنگ کی گئی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے جوابی فائرنگ کی، اور اس فائرنگ اور بھگدڑ میں کم از کم ایک شخص جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔’
نتیجہ: گمراہ کُن
لہٰذا، فیکٹ چیک کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو خیبرپختونخوا کی وادی تیراہ میں مظاہرین پر حالیہ فائرنگ کی ہے، گمراہ کن ہے۔
یہ ویڈیو اصل میں جولائی 2024 میں بنوں میں ہونے والے امن مارچ کے دوران پرتشدد واقعات کی ہے، جب مظاہرین پر فائرنگ کی گئی تھی۔