پاکستان

کوئی بھی طاقت غزہ کو فلسطین سے جُدا نہیں کر سکتی، سپریم فلسطینی جج

ہم اپنے موقف پر قائم اور اپنی زمین پر کھڑے ہیں، اسرائیل چاہتا ہے کہ ہم وہاں سے نکل جائیں، ہم کبھی بھی اپنی زمین کو نہیں چھوڑیں گے، ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش

فلسطینی صدر کے مشیر اور سپریم جج ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش نےکہا ہے کہاسرائیل ہماری زمین پر قبضہ کر کے غزہ کو علیحدہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جسے ہم ہر صورت پر ناکام بنائیں گے۔

فلسطینی صدر کے مشیر اور سپریم جج ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش نے اپنے دورہِ پاکستان کے دوران اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیلی ہماری زمین کو ہڑپنا چاہتے ہیں، غزہ کے 80 فیصد کے گھر، ہسپتال، اسکول، مساجد اور چرچ تباہ کر دیئے گئے۔

اسرائیلی فورسز نے 2 سال کے دوران 60 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور لاکھوں شہریوں کو زخمی کیا، ساتھ ہی ہزاروں گھروں بھی تباہ کر دیئےگئے۔

ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش کا کہنا تھا کہ ہم اپنے موقف پر قائم اور اپنی زمین پر کھڑے ہیں، اسرائیل چاہتا ہے کہ ہم وہاں سے نکل جائیں، وہ ہماری زمین ہے، ہم اپنی زمین پر کھڑے رہیں گے، کبھی بھی اپنی زمین کو نہیں چھوڑیں گے۔

فلسطین کے سپریم جج نے مزید کہا کہ غزہ کے مستقبل سے جو لوگ کھیلنا چاہتے ہیں، انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ غزہ فلسطین سے علیحدہ نہیں اور نہ ہی کوئی اسے الگ کر سکتا ہے۔

اسرائیلی قبضے اور جارحیت کے خلاف ہم پہلے بھی ایک تھے، آج بھی ایک ہیں اور مستقبل میں بھی ایک رہیں گے، کوئی ہمیں غزہ سے جدا نہیں کر سکتا۔

دورہِ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش نےکہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کے خطوط صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان کو پہنچائے ہیں۔

یہ ہمارا تاریخی دورہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور اس کے تاریخی اثرات مرتب ہوں گے۔

فلسطینی صدر کے مشیر نے فلسیطین کی حمایت پر پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر پاکستانی قوم ایک ہے، پوری دنیا کے مسلمان اور امن چاہنے والے افراد اہل فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے مدد چاہتے ہیں، یہ ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم سب مل کر فلسطین کی مقدس زمین کی حفاظت کریں۔

ڈاکٹر محمود صدیقی الھباش کا آخر میں کہنا کہ ہم نے پاکستان کے اعلیٰ حکام سے سے فلسطین کے لیے بھیجی جانے والی امداد کو سرکاری طور پر بھیجنے کی بھی درخواست کی ہے تاکہ اس کا ریکارڈ موجود رہے۔