پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 62 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگیا
پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ رواں مالی سال کے ابتدائی 2 مہینے (جولائی تا اگست) کے دوران 62 کروڑ 40 لاکھ ڈالر خسارے میں چلا گیا، جو جون 2025 میں 33 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز سرپلس تھا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار جاری کر دیے۔
مرکزی بینک کے مطابق ملکی کرنٹ اکاؤنٹ اگست 2025 میں 24 کروڑ 50 لاکھ ڈالر خسارے کی زد میں رہا، جبکہ جولائی میں 37 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
تاہم جولائی کے مقابلے اگست میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 35 فیصد کمی ہوئی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کے دو ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا مجموعی حجم 62 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ میں 43 کروڑ ڈالر پر تھا۔
واضح رہے کہ مالی سال 25-2024 میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 2 ارب 10 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال 24-2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ 2 ارب 7 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز خسارے میں تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے مالی سال 25-2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس 2.1 ارب ڈالر تک پہنچے پر اظہار تشکر کیا تھا۔
شہباز شریف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس بلند ترین سطح پر پہنچنا خوش آئند ہے، حکومتی اقدامات سے زرمبادلہ ذخائر 19 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے۔
انہوں نے کہا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں استحکام کی بنیادی وجہ ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ ہے، معاشی اشاریے ثابت کر رہے ہیں کہ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہیں۔