پاکستان

عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار

اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل حیدرآباد نے جامشورو کے دیہہ مول میں 893 ایکڑ اراضی پر بحریہ ٹاؤن کا قبضہ غیرقانونی قرار دیا تھا، ریونیو کی ہدایت پر آپریشن کیا گیا

عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں۔

ڈان نیوز کے مطابق اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل حیدرآباد نے قرار دیا تھا کہ جامشورو کے دیہہ مول میں 893 ایکڑ اراضی پر بحریہ ٹاؤن کا قبضہ غیرقانونی ہے، متعلقہ زمین نجی ملکیت ہے، اور یہ پبلک پراپرٹی کے زمرے میں نہیں آتی۔

عدالتی احکامات پر جامشورو میں بحریہ ٹاؤن کی غیر قانونی تعمیرات مسمار کردی گئیں، یہ انہدامی کارروائی 20 اور 21 ستمبر کی رات عمل میں لائی گئی تھی۔

اینٹی انکروچمنٹ ٹریبونل حیدرآباد کے احکامات کے بعد ریونیو حکام کی ہدایت پر بحریہ ٹاؤن کے زیر قبضہ زمین پر انسدات تجاوزات کا آپریشن شروع کیا گیا تھا، آپریشن میں تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

بحریہ ٹاؤن کراچی نے بھی مبینہ طور پر غیرقانونی قبضے کی زمین پر ہاوسنگ یونٹس اور کثیرالمنزمہ عمارتیں تعمیر کی ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں قومی احتساب بیورو نے بحریہ ٹاؤن کراچی، لاہور، تخت پڑی، نیو مری گولف سٹی اور اسلام آباد میں کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل جائیدادوں کو سر بمہر کر دیا تھا۔

نیب نے ملک ریاض اور دیگر افراد کے خلاف فراڈ کے زیر تفتیش مقدمات میں ایکشن لیا تھا اور، بحریہ ٹاؤن کے سیکڑوں اکاؤنٹس منجمد کرتے ہوئے درجنوں گاڑیاں بھی ضبط کرلی گئی تھیں۔

نیب حکام کا کہنا تھا کہ مخصوص عناصر ملک ریاض کے دبئی پروجیکٹ میں رقوم منتقل کر رہے ہیں، ملک ریاض کو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے بھرپور کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

نیب نے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اتھارٹی نے بطور قومی احتساب ادارہ اپنے مینڈیٹ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو آگاہ کیا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض احمد اور دیگر کے خلاف دھوکا دہی کے متعدد مقدمات اس وقت زیر تفتیش ہیں۔