پاکستان

نوشہرہ: پولیس نے انجینئر سمیت اغوا ہونے والے 3 افراد کو بحفاظت بازیاب کروا لیا

فائبر آپٹیکل پر کام والے عملے کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کیا اور رہائی کے بدلے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

خیبرپختونخوا پولیس نے نوشہرہ میں اغوا ہونے والے انجینئر سمیت 3 افراد کو کامیابی سے بازیاب کرا لیا۔

خیبرپختونخوا پولیس نے سماجی رابطے کی سائٹ ’فیس بک‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ نوشہرہ کے تھانہ نظام پور پولیس نےکامیاب کارروائی کرتے ہوئے آپٹیکل فائبر پر کام کرنے والے اغوا شدہ تینوں مغویوں کو باحفاظت بازیاب کروالیا ہے۔

پولیس کے مطابق اسرار خان، کاشف، مبشر ، زاہد کو فائبر آپٹیکل پر کام کررہے تھے کہ اس دوران انہیں نامعلوم ملزمان نے 21 ستمبر کی شام اغوا کر لیا تھا۔

ضلعی پولیس سربراہ احمد شاہ کے مطابق علاقہ پولیس کے ساتھ ساتھ مقامی مشران کے تعاون اور کوششوں سے تینوں مغویوں کی بازیابی ممکن ہوئی۔

قبل ازیں، نوشہرہ پولیس کے ترجمان ترک علی شاہ نے بتایا تھا کہ محکمہ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کو اغوا ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

واقعے کی ایف آئی آر 22 ستمبر کو سی ٹی ڈی مردان سرکل تھانے میں اغوا ہونے والے انجینئر کے والد کی شکایت پر دفعہ 365 اے اور دفعہ 7 کے تحت درج کی گئی۔

ایف آئی آر میں شکایت کنندہ نے مؤقف اپنایا کہ میرا بیٹا ٹیلی کام کمپنی میں انجینئر ہے اور حال ہی میں اسے نظام پور میں فائبر آپٹک کیبل لگانے کے لیے بلایا گیا تھا، بیٹے سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا اور بار بار کوشش کے باوجود اس کا فون بند ملا۔

والد نے مزید بتایا کہ ان کے بیٹے کے ساتھ مزدور اور ڈرائیور کو بھی اغوا کیا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق، واقعے کے روز 21 ستمبر کی شام شکایت کنندہ کے ایک اور بیٹے کو اپنے بھائی اور دیگر 2 مغویوں کی تصویریں واٹس ایپ پر موصول ہوئی تھی، جس میں اغوا کاروں نے ان کی رہائی کے لیے 50 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔