قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کا بڑی فصلوں کیلئے کم از کم امدادی قیمتوں کے فوری اعلان پر زور
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے بڑی فصلوں کے لیے کم از کم امدادی قیمتوں کے فوری اعلان پر زور دیتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ قیمتوں کی پالیسی نہ ہونے کی صورت میں کسان زیادہ منافع بخش متبادل فصلوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق سید طارق حسین کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے زور دیا کہ بروقت امدادی قیمتوں کا تعین مارکیٹ کے استحکام اور غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے اس سفارش کی تائید کی اور کمیٹی کو بتایا کہ گندم کی امدادی قیمت کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے اور جلد ہی اس کا باضابطہ اعلان متوقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن معاملات میں عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مشاورت اور منظوری کی ضرورت ہوگی، ان پر بھی کام کیا جائے گا۔
کمیٹی نے وزارت سے حالیہ سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کی۔ چینی کی بڑھتی قیمتوں اور ملکی قلت کے حوالے سے کمیٹی نے وزارت کو ہدایت دی کہ وہ ان نرخوں کا ڈیٹا فراہم کرے جن پر چینی برآمد کی گئی اور بعد ازاں دوبارہ درآمد کی گئی۔
اراکین کو مجوزہ نیشنل ایگریکلچر بایوٹیکنالوجی پالیسی (این اے بی پی) 2025 کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کا مقصد غذائی طلب، موسمی دباؤ اور کم پیداوار جیسے چیلنجز سے نمٹنا ہے۔
اس پالیسی میں روایتی بایوٹیکنالوجی، جینیاتی طور پر تبدیل شدہ فصلیں، نئی پودا افزائش کی تکنیکیں اور جینیاتی ترمیم شدہ اجناس کی درآمد و برآمد کے ضوابط پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔