دنیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اپنی سچائی بیان کروں گا، نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم جنرل اسمبلی سے خطاب اور ٹرمپ سے ملاقات کیلئے امریکا روانہ، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنیوالے رہنماؤں کی مذمت، فلسطینی رہنما محمود عباس ورچوئل خطاب کریں گے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں بات چیت اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکا روانگی کے موقع پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے رہنماؤں کی مذمت کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ان کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بن گوریان ایئرپورٹ پر نیتن یاہو نے کہا کہ جنرل اسمبلی میں اپنی سچائی بیان کروں گا، اسرائیل کے شہریوں کی سچائی، اسرائیلی فوجیوں کی سچائی، ہماری قوم کی سچائی۔

بیان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ میں اُن رہنماؤں کی مذمت کروں گا، جو قاتلوں، جنسی زیادتی کرنے والوں اور بچوں کو جلانے والوں کی مذمت کرنے کے بجائے انہیں اسرائیل کے دل میں ایک ریاست دینا چاہتے ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ واشنگٹن میں امریکی صدر ٹرمپ سے چوتھی بار ملاقات کریں گے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ میں اُن سے ان عظیم مواقع پر بات کروں گا، جو ہماری فتوحات نے ہمارے سامنے کھولے ہیں، نیز ہماری اُن ضروریات پر بھی جو جنگ کے اہداف کو مکمل کرنے کے لیے ہیں، جیسا کہ اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لانا، حماس کو شکست دینا اور امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنا جو ہمارے لیے کھل گیا ہے۔

فلسطینی رہنما ورچوئل خطاب کریں گے

فلسطینی رہنما محمود عباس اقوامِ متحدہ سے ورچوئل خطاب کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ نے رپورٹ کیا کہ امریکا اگرچہ محمود عباس کی مخالفت کرتا ہے، لیکن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا اسرائیل کو مغربی کنارے کے انضمام سے روکنے کی کوشش کی جائے یا نہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے بزرگ 89 سالہ صدر جنرل اسمبلی سے ایسے وقت میں خطاب کریں گے، جب حال ہی میں فرانس کی قیادت میں ایک خصوصی سربراہی اجلاس ہوا تھا، جس میں متعدد مغربی ممالک نے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔

جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ووٹ دے کر محمود عباس کو اجازت دی کہ وہ عالمی ادارے سے وڈیو خطاب کریں۔