غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے 2 سال، صہیونی مظالم اور فلسطینی مسلمانوں کے مصائب کی تصویری جھلکیاں
اسرائیل کو گزشتہ دو برسوں سے غزہ پر جاری بے رحمانہ بمباری کے باعث دنیا بھر سے شدید تنقید کا سامنا ہے، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی کمیشن پہلے ہی اس کے اقدامات کو ’ نسل کشی’ قرار دے چکے ہیں۔
2 مارچ کو اسرائیل نے جنگ بندی مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد غزہ کا مکمل محاصرہ کرلیا تھا، جولائی کے آخر میں اس نے قحط کے خدشات کے بعد امداد کی تھوڑی سی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن یہ امداد نہایت محدود اور تاخیر سے پہنچی، جس سے پہلے سے ہونے والا نقصان پورا نہیں ہو سکا، اگست میں اقوامِ متحدہ نے باضابطہ طور پر غزہ شہر میں قحط کا اعلان کر دیا تھا۔
آج جب دنیا کے سامنے— کفن میں لپٹی شہدا کی لاشیں، بہتا ہوا خون، بکھرے ہوئے انسانی اعضا، بھوک سے بلکتے بچوں کی صدائیں، اور ملبے میں تبدیل عمارتیں — جیسے مناظر کو ایک اور سال مکمل ہوچکا ہے، ہم کچھ ایسی تصاویر پر نظر ڈالتے ہیں جو غزہ میں اسرائیل کے متعدد جنگی جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔