پاکستان اور قازقستان کی افواج کے درمیان مشترکہ انسدادِ دہشتگردی تربیتی مشق کا آغاز
پاکستان اور قازقستان کے درمیان عسکری سطح پر تعلقات کو مزید بہتر کرنے کے لیے 2 ہفتوں پر مشتمل مشترکہ انسدادِ دہشت گردی تربیتی مشق کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان باقاعدگی سے ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منعقد کرتا ہے تاکہ آپریشنل تیاری میں بہتری، دفاعی تعاون میں اضافہ اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
ان مشقوں سے پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کے تجربات شیئر کرنے، اتحاد مضبوط بنانے اور ایک متوازن و ذمہ دار علاقائی کردار کے طور پر خود کو پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان اور قازقستان کی مشترکہ مشق دوستارم-5 انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں 13 تا 24 اکتوبر 2025 تک اسپیشل آپریشنز اسکول چراٹ (پاکستان) میں منعقد کی جا رہی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) اور قازقستان کی آرمی کے اسپیشل فورسز کے دستے اس مشق میں حصہ لے رہے ہیں جب کہ مشق کی افتتاحی تقریب منگل کے روز چراٹ میں منعقد ہوئی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس مشق کا مقصد مشترکہ تربیت کے ذریعے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا اور برادر ممالک کے درمیان تاریخی عسکری تعلقات کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
اپریل میں، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قازقستان کا سرکاری دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے قازقستان کے وزیرِ دفاع، کرنل جنرل رسلان سے ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال، مشترکہ تزویراتی مقاصد اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے عسکری تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور امن، استحکام اور علاقائی سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔