سیاستدانوں اور صحافیوں نے غزہ میں فوج بھیجنے کے مبینہ حکومتی منصوبے پر سوالات اٹھادیے
سیاستدانوں اور صحافیوں نے حکومت کے مبینہ منصوبے پر سوالات اٹھائے جن کے مطابق پاکستان غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کا حصہ بن سکتا ہے، جو اس وقت تشکیل دی جا رہی ہے۔
امریکا کی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کی ایک مرکزی شرط آئی ایس ایف کا قیام ہے، جو زیادہ تر مسلم اکثریتی ممالک کے فوجیوں پر مشتمل ہوگی، مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق حکومت جلد ہی اس حوالے سے باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔
خبر سامنے آنے کے بعد سیاستدانوں اور صحافیوں نے سوشل میڈیا پر تشویش اور تنقید کا اظہار کیا۔
’پریشان کن‘، ’قبضے کا نیا چہرہ‘
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اس خبر کو ’پریشان کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ماضی کی غلط پالیسیاں آج ہمیں پریشان کررہی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’کیا ہم نے اس منصوبے کے فوائد اور نقصانات پر بحث کی ہے؟ حکومت عوام کو اعتماد میں لینے سے کیوں گریزاں ہے؟‘
دوسری جانب سینیٹر علامہ راجا ناصر نے ایک طویل بیان میں اس منصوبے کی دو ٹوک الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے غزہ پر فوجی کنٹرول کو ختم نہیں بلکہ مزید مضبوط کرے گا، جو ’قبضے کا نیا چہرہ‘ بن کر اسرائیلی جارحیت کو مسلم شمولیت کے ذریعے جواز فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی رضامندی کے بغیر غیر ملکی افواج کی تعیناتی بین الاقوامی قانون اور امن مشن کے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی، غزہ کے عوام آئی ایس ایف کو استحکام کی علامت نہیں بلکہ ایک مسلط کردہ غیر ملکی طاقت کے طور پر دیکھیں گے۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے واضح مینڈیٹ کے بغیر آئی ایس ایف امریکا کی قیادت میں چلنے والا ڈھانچہ بن جائے گا جو غیر جانبداری سے محروم ہوگا، راجا ناصر عباس نے خبردار کیا کہ اس منصوبے سے مسلم اور عرب ممالک میں تقسیم پیدا ہوگی، ایک طرف وہ ممالک ہوں گے جو اس ناقص منصوبے سے تعاون کریں گے، اور دوسری طرف وہ جو اسرائیلی قبضے کے خلاف ڈٹے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ میں حقیقی استحکام غیر ملکی فوج کی موجودگی سے نہیں بلکہ فلسطینی قیادت میں حکومت، تعمیرِ نو اور مفاہمت کے عمل سے ممکن ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فورس میں شامل ہونے سے گریز کرے۔
’فیصلہ کس نے کیا؟‘
روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل کی مدیر نقطہ نظر زیب النسا برکی نے صحافی ریان روزبیانی کی ایک پوسٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی ’امن فورس‘ امن قائم نہیں کرے گی بلکہ اسرائیل کی مددگار ثابت ہوگی۔
ریان روزبیانی نے اپنی پوسٹ میں بتایا تھا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے باوجود 16 دنوں میں 150 فلسطینیوں کو قتل کیا ہے اور سوال کیا کہ یہ کس قسم کی جنگ بندی ہے؟، جس پر زیب النسا برکی نے جواب دیا کہ یہ جنگ بندی نہیں ہے۔
صحافی حامد میر نے بھی ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے توجہ دلائی، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوجی دستے آئی ایس ایف میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’اس خبر پر خاموشی کیوں ہے؟ اگر یہ درست ہے تو یہ فیصلہ کس نے کیا؟ اور یہ معاملہ ابھی تک پاکستانی پارلیمان میں زیرِ بحث کیوں نہیں آیا؟‘۔
سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری نے ایک سلسلہ وار پوسٹس میں کہا کہ یہ منصوبہ دراصل اسرائیلی قبضے کو مضبوط کرے گا، کیونکہ یہ امریکی و برطانوی نگرانی میں اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ تعاون پر مبنی ہوگا۔
انہوں نے ’ڈان‘ میں شائع ہونے والی خبر کی ایک تصویر پوسٹ کی، جس میں یہ فقرہ نمایاں کیا گیا تھا کہ ’پاکستان کا امن مشنز میں شاندار ریکارڈ‘، اس پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پاکستان کا امن مشنز میں کردار ہمیشہ اقوام متحدہ کے تحت رہا ہے، ہم نے عراق میں اسی نوعیت کے فوجی اتحاد کی مخالفت کی تھی۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ’یہ اقدام فلسطینی ریاست کے تصور کی نفی ہے، یہ سادہ امن مشن نہیں بلکہ مشکوک ٹرمپ-نیتن یاہو منصوبے کے تحت زبردستی امن نافذ کرنے کی کوشش ہے‘۔
انہوں نے سینیٹر ناصر عباس کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’منصوبہ‘ دراصل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جو بانی پاکستان قائداعظم کا بنیادی عزم تھا، انہوں نے نئی فورس کا موازنہ عراق پر حملے کےلیے بنائے گئے فوجی اتحاد سے کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اتحاد کبھی انصاف یا تحفظ نہیں لا سکتے۔
’اچھا فیصلہ ہے مگر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے‘
سابق وزیر اطلاعات و سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے ’ڈان‘ کے آرٹیکل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ’اچھا فیصلہ‘ قرار دیا، تاہم کہا کہ ایسے معاملات پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں حکمرانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ قوم کو اعتماد میں لیں، پارلیمنٹ کا ماحول بہتر بنائیں، کیونکہ ایسے فیصلے قومی اتفاق سے ہی ممکن ہیں‘۔
ذرائع کے مطابق اس فورس کا مینڈیٹ داخلی سلامتی برقرار رکھنا، حماس کو غیر مسلح کرنا، سرحدی گزرگاہوں کا تحفظ اور ایک عبوری فلسطینی انتظامیہ کے تحت انسانی امداد و تعمیرِ نو میں معاونت شامل ہوگا۔
اسلام آباد کے حکام کے مطابق پاکستان کی ممکنہ شمولیت اخلاقی ذمہ داری اور سفارتی ضرورت دونوں کی بنیاد پر ہے، ان کے مطابق پاکستان اُن 8 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 2024 کے آخر میں امن منصوبے کی ابتدائی تجویز دی تھی، جس کی بنیاد پر امریکا کی ثالثی میں غزہ امن معاہدہ اس ماہ طے پایا۔
چونکہ استحکام فورس اس منصوبے کا مرکزی جزو ہے، اس لیے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شرکت اس کی پالیسی میں تسلسل اور ساکھ کی علامت ہوگی۔