پی آئی اے ایئرکرافٹ انجینئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی، متعدد پروازیں منسوخ
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی انتظامیہ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز نے طیاروں کی کلیئرنس روک دی جس سے قومی ایئر لائن کا فلائٹ آپریشن متاثر ہوگیا، اور کئی پروازیں منسوخ کرنا پڑ گئی ہیں، تاہم انتظامیہ نے متبادل انتطام کرکے دمام اور جدہ کی پروازیں روانہ کر دی ہیں۔
ڈان نیوز کے مطابق ایئرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج کے باعث پی آئی اے کی کوئی بین الاقوامی پرواز روانہ نہیں ہو سکی، ایئرکرافٹ انجینئرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پی آئی اے اپنا رویہ ٹھیک کریں۔
ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سوسائٹی آف ایئر کرافٹ انجینئرز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، اس احتجاج کا بنیادی مقصد پی آئی اے کی نجکاری کو سبوتاژ کرنا ہے۔
پی آئی اے میں لازمی سروسز ایکٹ نافذ ہے، ہڑتال یا کام چھوڑنا قانونی طور پر جرم ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ایسی کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کاrروائی عمل میں لائی جائے گی، انتظامیہ متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئرلائنز سے حاصل کر رہی ہے، جلد تمام پروازیں روانہ کر دی جائیں گی۔
فلائٹ آپریشن بحالی کی جانب گامزن ہے، ترجمان پی آئی اے
ترجمان نے کہا کہ دیگر پروازوں کو بھی ٹیک لاگز کلیئر کروا کر روانہ کیا جارہا ہے، انتظامیہ ایئرپورٹس پر موجود ہے، کسی کو بھی مسافروں کو پریشان کرنے اور پروازوں کی روانگی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
متعدد پروازیں منسوخفلائٹ انجینئرز کی ہڑتال کی وجہ سے متعدد پروازیں منسوخ ہوگئیں، احتجاج کے باعث پی آئی اے کی لاہور سے مسقط، کراچی سے فیصل آباد، اور اسلام آباد اسکردو کی 2 طرفہ پروازیں منسوخ ہوگئیں۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز اور انتظامیہ میں تنازع سے متعدد پروازیں تاخیر اور منسوخ ہوئیں۔
سی ای او پی آئی اے عامر حیات کراچی پہنچے اور چیف ہیومن ریسورس (ایچ آر) افسر کو ایئرکرافٹ انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کردی۔
پی آئی اے ایئرکرافٹ انجنیئرز نے تاحال کام جاری رکھنے سے معذرت کرلی ہے، ذرائع کے مطابق کسی صورت فلائٹ آپریشن معطل نہیں ہونے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش کی تھی، جو کامیاب نہیں ہوسکی تھی،گزشتہ سال توقع سے انتہائی کم بولی لگنے پر نجکاری بورڈ نے قومی ایئرلائن کی نجکاری کے لیے موصول ہونے والے بولیاں مسترد کردی تھیں۔
پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو بولی کھولی گئی تھی اور قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی، جو منظور نہیں کی گئی تھی۔