ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا، انٹرنیٹ سروس بند، پروازیں منسوخ
ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا ، حکام نے بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کے لیے پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کر دیا، ٹیلی فون کالز نہیں پارہیں، پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ ایرانی نیوز ویب سائٹس صرف وقفے وقفے سے اپ ڈیٹ ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کام کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ تہران غیر ملکیوں کے لیے کرائے کے ایجنٹوں کے طور پر کام کرنے والوں کو برداشت نہیں کرے گا، خامنہ ای نے ٹرمپ کو کہا کہ وہ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
28 دسمبر کو شدید مہنگائی کے نتیجے میں ہونے والا احتجاج پورے ایران میں پھیل چکا ہے۔ درجنوں افراد کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں اور شدید معاشی صورتحال اور گزشتہ سال اسرائیل اور امریکا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد حکام پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔
امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق بےامنی کے دوران کم از کم 34 مظاہرین اور چار سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، جبکہ22 سو افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں، آیت اللہ خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا ایران کی صورتحال پر بہت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، اگر ایران میں ماضی کی طرح لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا سخت ردعمل دے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای نے مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ ٹرمپ کی ایما پر کام کر رہے ہیں، اور کہا کہ شرپسند عناصر سرکاری املاک کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ بن کر کام کرنے والوں کو تہران برداشت نہیں کرے گا۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھ ایک ہزار سے زائد ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور پیش گوئی کی کہ متکبر امریکی صدر کا انجام بھی اس شاہی خاندان جیسا ہوگا جو 1979 کے انقلاب سے قبل ایران پر حکمران تھا۔
ویڈیوز کے مطابق ایران میں مہنگائی میں اضافے کے خلاف تقریباً دو ہفتوں سے جاری تحریک کے دوران اب تک کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں مظاہرین نے آمر مردہ باد کے نعرے لگائے اور سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق جمعرات کی شب ایران بھر میں مکمل انٹرنیٹ بند کردیا گیا اور جمعے کی صبح بتایا گیا کہ ملک گزشتہ 12 گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے، جس کا مقصد ملک گیر احتجاج کو دبانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال نظام سے بڑھتی ہوئی عوامی مایوسی کی عکاس ہے۔
حکام ایک دوہری حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں، جس کے تحت معاشی مسائل پر احتجاج کو جائز قرار دیتے ہوئے مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے جبکہ بعض مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔
پروازیں منسوخ
دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جمعے کے روز دبئی اور ایرانی شہروں کے درمیان کم از کم چھ پروازیں منسوخ ہو گئی ہیں۔
ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے بھی جمعے کو استنبول سے ایران کے لیے اپنی سات پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جن میں سے پانچ ایران کے دارالحکومت تہران کے لیے تھیں۔
ترجمان کے مطابق باقی پروازیں تبریز اور مشہد کے لیے تھیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ترک ایئر لائنز نے جمعرات کو تہران کے لیے دو پروازیں اور تبریز کے لیے ایک پرواز پہلے ہی منسوخ کر دی تھی۔
استنبول ایئرپورٹ ایپ کے مطابق ایرانی ایئر لائنز کی پانچ دیگر پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات پروازیں دوپہر تک شیڈول کے مطابق تھیں۔
اسپیشلسٹ ویب سائٹ فلائٹ ریڈار کے مطابق، جمعرات کی رات ایک ترک ایئر لائنز کی پرواز شیراز کے لیے اور پیگاسس کی ایک پرواز مشہد کے لیے ایرانی حدود سے واپس لوٹ گئی۔
ترکی اور ایران کے درمیان تقریباً 500 کلومیٹر کی سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تین فعال زمینی راستے موجود ہیں۔