جعلی اکاؤنٹس کیس: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ تفتیش کیلئے نیب میں طلب

اپ ڈیٹ 01 جولائ 2020

ای میل

سلیم مانڈوی والا کو صبح 11 بجے نیب کے تفتیشی اہلکاروں کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانا ہے—تصویر: اسکرین گریب
سلیم مانڈوی والا کو صبح 11 بجے نیب کے تفتیشی اہلکاروں کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانا ہے—تصویر: اسکرین گریب

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو(نیب) نے موجودہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیب کا کہنا تھا کہ سلیم مانڈوی والا کو یکم جولائی کی صبح11 بجے نیب کے تفتیشی اہلکاروں کے سامنے پیش ہو کر بیان ریکارڈ کروانا ہے۔

سلیم مانڈوی والا پر اوورسیز کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہونے کا الزام ہے ساتھ ہی ان پر پلاٹس کے لیے جعلی اکاؤنٹس سے ادائیگی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نیب نے ایک ہی تفتیش میں انہیں دوسری مرتبہ طلب کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس کے مرکزی ملزم عبدالمجید غنی کی ضمانت منظور

اس حوالے سے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو جاری کردہ خط میں لکھا گیا کہ ’جب آپ 18 اکتوبر 2019 کو کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے تو ایک سوالنامہ آپ کو دیا گیا تھا اور آپ کی درخواست پر اس کے جواب کے لیے 10 روز کا وقت دیا گیا تھا‘

خط میں مزید کہا گیا کہ ’اچھا خاصہ وقت گزر جانے کے بعد بیورو کو 28 فروری 2020 کو آپ کا جواب موصول ہوا جس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ سوالات کے جواب میں وضاحت یا تفصیلات نہیں تھیں‘۔

خط کے مطابق ’چنانچہ سوالنامے پر تفصیلی جواب جمع کروانے کے لیے آپ سے ایک مرتبہ پھر یکم جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی درخواست کی جاتی ہے‘۔

دوسری جانب نیب راولپنڈی نے جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) کے سابق چیئرمین اعجاز ہارون کو گرفتار کرلیا۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: جعلی اکاؤنٹس کیس کے 2 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

نیب کے مطابق اعجاز ہارون نے اوور سیز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے چیئرمین اور سیکریٹری کی حیثیت سے مبینہ طور پر مشتبہ الاٹیز کے نام پر 12 جعلی پلاٹس کی فائلز بنا کر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

ملزم نے 12 جعلی پلاٹس کی فائلز کے حـصول کے لیے مبینہ طور پر اومنی گروپ کی بھاری رقوم لانڈر کیں اور ایم/ایس لکی انٹرنیشنل اور ایم /ایس اے ون انٹرنیشنل ناموں کے 2 جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے تقریباً 14 کروڑ 40 لاکھ روپے کا غیر قانونی فائدہ اٹھایا۔

جعلی اکاؤنٹس کیس کا پس منظر

2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روہے بتائی گئی تھی۔

اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔ اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: چیئرمین اوورسیز ہاؤسنگ سوسائٹی اعجاز ہارون گرفتار

آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔

بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔

تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔

اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔

15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔

مزید پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: یو اے ای کی کاروباری شخصیت وعدہ معاف گواہ بن گئی

جس کے بعد اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے اس کیس میں نامزد آٹھوں ملزمان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 8 اپریل تک ملتوی کی تھی اور 9 اپریل کو احتساب عدالت نے باقاعدہ طور پر جعلی بینک اکاؤنٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کا آغاز کیا تھا۔

مذکورہ کیس میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری میں مسلسل توسیع ہوتی رہی تاہم آصف زرداری کو 10 جون جبکہ ان کی بہن کو 14 جون کو گرفتار کرلیا تھا جن کے ریمانڈ میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔

بعدازاں گزشتہ برس 11 دسمبر کو سابق صدر آصف زرداری اور 17 دسمبر کو ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کی ضمانت منظور کرلی گئی تھی۔