نواز شریف کے بچوں، داماد نے بھی پاناما فیصلہ چیلنج کردیا
اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں حسن اور حسین نواز، مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے بھی پاناما کیس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا۔
حسن، حسین، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی جانب سے دو نظر ثانی درخواستیں دائر کی گئیں۔
ایک نظر ثانی درخواست سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف جبکہ دوسری نظر ثانی درخواست 3 رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی۔
نظر ثانی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے مالی اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات 'انصاف کے تقاضوں کے منافی'، 'نامکمل' اور اس قابل نہیں تھی جس پر ریفرنس دائر ہو سکے۔
یہ بھی کہا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات کو زیرِغور نہیں لایا گیا جبکہ رپورٹ پر عدالتی فائنڈنگ سے ہمارے حقوق متاثر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پاناما کیس فیصلہ: نواز شریف نے نظرثانی اپیلیں دائر کردیں
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سماعت پاناما عملدرآمد بینچ کے تین ججز نے کی لہذا پانچ ججز کو رپورٹ پر فیصلے کا اختیار نہیں تھا۔
مزید کہا گیا کہ دو ججز 20 اپریل کے فیصلے کے بعد بینچ میں نہیں بیٹھ سکتے تھے (کیونکہ انہوں نے اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا) جبکہ تین ججز نے 20 اپریل کے عدالتی فیصلے پر عمل کرایا اور تحقیقات کی نگرانی کی، لہذا ان تین ججز کو بھی جے آئی ٹی رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔
درخواست میں پاناما فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں شریف خاندان کے خلاف دائر ریفرنسز کے معاملات کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کا جج مقرر کیے جانے کو بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ نگران جج کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 4، 10 اے، 25 اور 175 کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاناما فیصلے پر عملدرآمد کیلئے جسٹس اعجاز الاحسن نگراں جج مقرر
درخواست کے مطابق نگران جج کی تعیناتی کے بعد احتساب عدالت آزادانہ کام نہیں کرسکے گی جبکہ آئین اور قانون میں احتساب عدالت کی کارروائی کی نگرانی کی گنجائش نہیں، عدالت صرف یہ کہہ سکتی ہے کہ قانون کے مطابق کام کیا جائے، لیکن فائنڈنگ کی روشنی میں عدالت خوف شکایت کنندہ بن گئی ہے۔
سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن (ر) صفدر نے اپنی نظرثانی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف لندن فلیٹس کی خریداری کا کوئی الزام یا ثبوت نہیں لیکن عدالت عظمیٰ عدالت نے ان کے خلاف بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے میں سقم ہیں، لہذا اس فیصلے کے خلاف نظرثانی منظور کی جائے اور اسے کالعدم قرار دے کر درخواستیں خارج کی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسحٰق ڈار نے بھی پاناما کیس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا
واضح رہے کہ اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی پاناما کیس کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے نظر ثانی درخواستیں دائر کرچکے ہیں۔
پاناما انکشاف
پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے 'آف شور' مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔
پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔
مزید پڑھیں: شریف خاندان کی 'آف شور' کمپنیوں کا انکشاف
ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق، سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔
موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔
ملکی سیاست میں ہلچل اور سپریم کورٹ میں کارروائی
پاناما انکشافات کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے تھے اور سابق وزیراعظم کے بچوں کے نام پاناما لیکس میں سامنے آنے پر اپوزیشن کی جانب سے نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اس سلسلے میں سابق وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرنے کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی میں بھی خطاب کیا اور پاناما لیکس کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کے لیے رضامند ہیں، تاہم اس کمیشن کے ضابطہ کار (ٹی او آرز) پر حکومت اور حزب اختلاف میں اتفاق نہیں ہوسکا۔
بعدازاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نواز شریف کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں ان کے خلاف نااہلی کی پٹیشن دائر کردی، ان کا مؤقف تھا کہ نواز شریف نے ایوان میں متضاد بیانات دیے، چنانچہ اب وہ صادق اور امین نہیں رہے۔
پی ٹی آئی کے علاوہ جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ نے بھی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کی تھیں۔
جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس گلزار احمد خان، جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاناما کیس کی سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ
عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔
جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں برس 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔
جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
مزید پڑھیں: پاناما کیس کا فیصلہ جاری کرنے والے ججز کون؟
بعدازاں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے 28 جولائی کو فیصلہ سنایا اور نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا جب کہ سابق وزیراعظم، ان کے بچوں حسن، حسین نواز، مریم نواز، داماد کیپٹن (ر) صفدر اور وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔
25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں سپریم کورٹ کے 5 جج صاحبان کی جانب سے سابق وزیراعظم کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ نواز شریف نے ’کیپیٹل ایف زیڈ ای‘ سے متعلق کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے، وہ عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 12 کی ذیلی شق ’ٹو ایف‘ اور آرٹیکل 62 کی شق ’ون ایف‘ کے تحت صادق نہیں رہے، لہذا نواز شریف کو رکن مجلس شوریٰ کے رکن کے طور پر نااہل قرار دیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے نیب کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات کی روشنی میں 6 ہفتوں کے اندر راولپنڈی احتساب عدالت میں نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف لندن کے 4 فلیٹس سے متعلق ریفرنس دائر کرنے جبکہ نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف عزیزیہ اسٹیل ملز، ہل میٹل سمیت بیرونی ممالک میں قائم دیگر 16 کمپنیوں سے متعلق ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔