دنیا

ورلڈ ٹریڈ سینٹر حملے کو 16 سال مکمل

نائن الیون حملے کو 16 سال مکمل ہوگئے تاہم اس کے اثرات عالمی منظر نامے پر اب بھی دکھائی دیتے ہیں۔

ایک جانب جہاں امریکا گذشتہ تین ہفتوں کے دوران آنے والے دو تباہ کن طوفانوں کی تباہی سے نمٹنے میں مصروف ہے وہیں آج کے روز امریکی شہری 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے کو یاد کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ’اے پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سرزمین پر ہونے والے ان خطرناک دہشت گرد حملوں میں متاثر ہونے والے افراد کے اہل خانہ، رشتے دار، دوست احباب سمیت حملے میں زندہ بچ جانے والے افراد ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر جمع ہوں گے۔

ڈیڑھ دہائی گزر جانے کے بعد ہر سال گراؤنڈ زیرو پر 11 ستمبر کو مرنے والے افراد کے ناموں کو پکارا جانا، چند منٹ کی خاموشی اختیار کرنا اور گھنٹیوں کی آوازیں اب ایک روایت بن چکی ہیں۔

پہلی بار نائن الیون حملوں کی برسی کا حصہ بننے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنی اہلیہ کے ہمراہ عین اس وقت خاموشی اختیار کریں گے جب 16 سال قبل پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرایا تھا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پینٹاگون میں ہونے والی خصوصی تقریب میں بھی شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ حملوں کے متاثرین کے ورثاء کے لیے سیکریٹری دفاع جم میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جوزف ڈنفورڈ کی جانب سے پینٹاگون میں یادگاری تقریب منعقد کی جائے گی۔

حملوں کو 16 سال مکمل ہونے کے موقع پر امریکی نائب صدر مائیک پینس اور امریکی سیکریٹری داخلہ ریان زنکے فلائٹ 93 نیشنل میمورئیل کے مقام پر اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ٹرمپ نے نائن الیون جیسے حملے سے بچنے کیلئے سعودیہ کا دورہ کیا‘

امریکا کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کو 16 سال مکمل ہوگئے تاہم اس کے اثرات عالمی منظر نامے پر اب بھی دکھائی دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کا سورج امریکا کے لیے قیامت بن کر ابھرا، جب دہشت گردوں نے ہائی جیک کیے گئے دو طیارے نیویارک میں موجود ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ایک کے بعد ایک ٹکرا دیئے اور دنیا کی بلند ترین عمارت منٹوں میں زمین بوس کر دی۔

اس سانحے میں 3 ہزار مقامی اور غیر ملکی باشندے مارے گئے، 6 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ 10 ارب ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا۔

اسی روز دو مزید طیارے بھی ہائی جیک کیے گئے، جن میں سے ایک پینٹاگون کے قریب اور دوسرا جنگل میں گر کر تباہ ہوا۔

واقعے کے فوری بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر نے جنم لیا۔

امریکا کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار عالمی دہشت گرد تنظیم ’القاعدہ‘ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا، تاہم ناکافی ثبوتوں کے باوجود اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے اسامہ کے میزبان ملک افغانستان پر یلغار کردی، جس کے بعد دہشت گردی کے جن نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مزید پڑھیں: سچے واقعے پر مبنی فلم ’نائن الیون‘ ریلیز کردی گئی

ایک عشرے سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں افغان شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ہزاروں بے گھر ہوگئے۔

امریکا نے اسامہ بن لادن کو اپنا اولین دشمن قرار دیا اور ان کی تلاش میں افغانستان میں بے شمار کارروائیاں کیں اور بالآخر مئی 2011 میں امریکا نے اسامہ بن لادن کو ابیٹ آباد میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

نائن الیون کے حملے نے امریکا کی پیشگی حملوں کی پالیسی یعنی 'بش ڈاکٹرائن' کو جنم دیا اور افغانستان، شمالی کوریا، عراق اور ایران برائی کا محور قرار پائے اور اسی پالیسی کے تحت امریکا نے ان ممالک میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے 3 ہزار امریکیوں کے بدلے امریکا نے لاکھوں افراد کو ہلاک کردیا، لاکھوں زخمی اور معذور جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے، اس کے علاوہ گوانتاناموبے اور ابوغریب جیسے بدنام زمانہ عقوبت خانے وجود میں آئے۔

یہ بھی پڑھیں: نائن الیون : امریکی بیوہ کا سعودیہ پر مقدمہ

نائن الیون واقعے کے 13 سال مکمل ہونے پر امریکی صدر براک اوباما نے قوم سے خطاب میں عراق اور شام میں تیزی سے اپنے پنجے گاڑھنے والی دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ کے خلاف اہم اعلانات کیے۔

براک اوباما نے عراق میں داعش کے خلاف حملوں کو تیز اور شام میں بمباری کے آغاز کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ داعش میں موجود اعتدال پسندوں کی مدد سے سعودی عرب میں ان کی فوجی تربیت کا بھی اعلان کیا۔

امریکا کی جنگجوانہ پالیسی سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا اور یہاں شدت پسندی بڑھی، بالخصوص افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے نہ صرف قبائلی علاقوں میں ٹھکانے بنائے بلکہ شہری علاقوں میں بھی کھل کر موت کا کھیل کھیلا۔

تاہم 16 سال گزرنے کے بعد بھی نائن الیون کا کوئی حقیقی ملزم سامنے نہ آسکا۔