اپ ڈیٹ ستمبر 11, 2018 12:08pm

کوئلے کی کان میں مٹی بننے والوں کی کتھا

شبینہ فراز

یہ 12 اگست 2018ء کا دن تھا جو کوئلے کی کان میں کسی عفریت کی طرح اترا اور 19 قیمتی جانیں کھا گیا۔ زیرِ زمین 4 ہزار 300 فٹ گہری کان میں کان کن اپنا روز مرہ کا کام یعنی کوئلہ نکال رہے تھے کہ ان کے راستے میں سخت مٹی یا پتھر کی رکاوٹ آگئی، یہ رکاوٹ دور کرنے کے لیے بلاسٹ کیا گیا جو معمول کی بات ہے، لیکن بلاسٹ کے دوران اکثر کوئلے کو بھی ضرب لگ جاتی ہے جس سے مختلف گیسیں خارج ہونے لگتی ہیں۔

لیکن اس روز بلاسٹ کے بعد 2 واقعات ہوئے۔ ایک معمول کے عین مطابق اور ایک غیر معمولی، اور یہی غیر معمولی واقعہ تباہی کا سبب بنا۔ معمول کے مطابق تو یہ ہوا کہ کوئلے کو ضرب لگنے سے جان لیوا میتھین گیس خارج ہونے لگی۔ لیکن غیر معمولی یہ ہوا کہ بلاسٹ کے باوجود کان کن باہر نہیں آسکے کیونکہ اس روز بدقسمتی سے دھماکے سے پہاڑ کا ایک حصہ گرگیا، اور یوں کان سے باہر نکلنے کا واحد راستہ بند ہوگیا۔ باہر موجود 6 افراد کان میں موجود لوگوں کو بچانے کے لیے قریب گئے تو وہ بھی میتھین گیس کا شکار ہوگئے اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے 19 افراد لقمہءِ اجل بن گئے۔

بہتر حفاظتی اقدامات سے یہ قیمتی جانیں بچ سکتی تھیں، لیکن مقامِ افسوس ہے کہ کان مالکان تو کیا کسی کے کان پر بھی جوں نہیں رینگی۔ ایسے حادثات میں دسیوں افراد کی ہلاکت کے باوجود کہیں کوئی شور نہیں مچتا، کوئی آہ و فغاں بلند نہیں ہوتی۔ پورا ملک سیاست سیاست کھیلنے میں ایسا مصروف رہتا ہے کہ ان قیمتی جانوں کے زیاں پر کسی کا دھیان تک نہیں جاتا۔

یہ حادثات تواتر سے ہوتے رہتے ہیں۔ اسی سال مئی میں 2 حادثات میں 23 کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس سے بھی بڑھ کر المیہ یہ ہوا کہ ان میں 21 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا۔ پھر جون کے مہینے میں کوئٹہ کے سنجدی کے علاقے میں کانوں میں گیس بھرنے سے 4 کان کن جاں بحق ہوئے اور اب اگست کے مہینے میں کوئٹہ کے قریب سنجدی ہی کے علاقے میں کان میں گیس بھر جانے کے باعث 19 افراد فوت ہوگئے۔

کوئٹہ میں کوئلے کی ایک کان کے باہر سیکیورٹی فورسز اور مزدور جمع ہیں — فوٹو اے پی/فائل

کوئلے کی ان کانوں سے کوئلہ کیسے نکالا جارہا ہے، جدید یا لازمی آلات ہیں یا نہیں، حفاظتی انتظامات کیسے ہیں، قانون کیا کہتا ہے کوئی نہیں ہے جو کان مالکان سے ان سوالوں کا جواب لے سکے۔

قانون کے مطابق کان کے اندر جانے والا راستہ 7 بائے 6 فٹ چوڑا ہونا چاہیے لیکن لاقانونیت اور پیسہ بچانے کی وجہ سے نیچے جاتے جاتے یہ راستہ چھوٹے سے چھوٹا ہوتا چلاجاتا ہے۔ انگریزوں کے دور میں قانون پر عمل درآمد ہوتا تھا اور قانون کے مطابق ایک متبادل راستہ بھی بنایا جاتا تھا جسے 'ہوائی' کہتے تھے۔ اس راستے سے نہ صرف آکسیجن اندر آتی تھی بلکہ یہ راستہ کسی ایمرجنسی صورت حال میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

فوٹو گیلری: لکڑی سے کوئلہ تک

لیکن اب قانون کہیں طاق پر دھرا ہے اور خرچ بچانے کے لیے یہ متبادل انتظام ختم کردیا گیا ہے۔ اگر اس کان میں بھی متبادل راستہ موجود ہوتا تو شاید یہ غریب کان کن بچ سکتے تھے۔ اس کے علاوہ کانوں کی چھت اور ڈھانچے کو سہارا دینے کے لیے پہلے کیکر کی مضبوط لکڑی استعمال کی جاتی تھی لیکن اب پیسے بچانے کے لیے سفیدے کی لکڑی استعمال کی جاتی ہے جو ہلکا سا جھٹکا بھی برداشت نہیں کرپاتی اور پوری کان منہدم ہوجاتی ہے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کانوں میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث ہر سال اوسطاً 100 سے 200 کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ان ہلاکتوں کا سبب عام طور پر کوئلے کے حصول کے لیے بلاسٹ کے بعد میتھین گیس کا کان میں بھر جانا یا پھر کان کا منہدم ہوجانا ہوتا ہے۔

بلوچستان صوبے میں کوئلے کی 400 کانیں موجود ہیں جہاں 13 سے 34 سال کی عمر کے 1 لاکھ کان کن کام کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف 12 ہزار کان کن صوبے کے مائن ڈپارٹمنٹ کے پاس رجسٹرڈ ہیں جبکہ بقیہ بنا کسی رجسٹریشن کے کام کرتے ہیں۔ یہ کانیں ہرنائی، سورنج، ڈکی، مچھ، چملانگ وغیرہ میں واقع ہیں۔ کانوں میں کام کرنے کا ماحول انتہائی ناقص، مخدوش اور غیر انسانی ہے۔

غربت کے باعث یہ کان کن اس ماحول میں 16 سے 18 گھنٹے کام کرنے پر مجبور ہیں۔ سلطان صاحب کا کہنا ہے کہ اس مخدوش ماحول میں عموماً روزانہ ہی کوئی نہ کوئی کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے لیکن ان ہلاکتوں کو چھپا لیا جاتا ہے۔ کان کے مالکان خاموشی سے بیوہ یا دیگر ورثاء کے ہاتھ پر 50 ہزار رکھ کر لاش روانہ کردیتے ہیں۔

ضلع کچھی، بلوچستان میں کوئلے کی ایک کان — فوٹو محمد اکبر نوتیزئی

اپریل کے مہینے سے اب تک 73 ورکرز فوت ہوچکے ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے جو ریکارڈ پر ہے جبکہ اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان غریب کان کنوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوتا۔ حتٰی کہ کوئی حاضری رجسٹر نہیں ہوتا۔ کسی کو علم نہیں ہوتا کہ آج کتنے لوگ کام پر آئے ہیں۔ سلطان صاحب کا کہنا تھا کہ 2011ء میں پی ایم ڈی سی میں حادثہ ہوا تھا۔ پوری کان بیٹھ گئی تھی، کسی کو علم نہیں تھا کہ اندر کتنے لوگ ہیں۔ کسی کا خیال تھا 12 یا زیادہ سے زیادہ 15 لیکن کھدائی کرکے اندر پہنچے تو علم ہوا کہ 43 لوگ تھے۔

ماضی میں ہلاکتوں کا تناسب کم تھا۔ انگریز نے کان کنی کے حوالے سے مائنز ایکٹ مجریہ 1923ء بنایا تھا جس پر وہ عمل درآمد بھی کرتا تھا۔ اس قانون میں کان کن کی صحت، جان کی حفاظت، اوقات کار وغیرہ سب طے شدہ ہیں لیکن اب پاکستان کے دیگر قوانین کی طرح اس قانون پر عمل درآمد بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

پاکستان کوئلے کے ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک بھی ہے۔ اس کے چاروں صوبوں میں 185.175 ارب ٹن کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ بلوچستان کے پہاڑوں سے نکلنے والے کوئلے کا شمار بہترین کوئلے میں کیا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چملانگ کے علاقے میں کوئلے کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جو 60 کلومیٹر طویل اور 20 کلومیٹر چوڑا ہے۔ یہاں موجود کوئلے کی مالیت اربوں روپے ہے۔

پڑھیے: پنجاب میں کان کنوں کی زندگی پر ایک نظر

پاکستان میں کوئلے کا سب سے زیادہ استعمال اینٹیں بنانے والے بھٹوں میں کیا جاتا ہے جبکہ کچھ مقدار توانائی کے حصول کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ تھر میں کوئلے کے ذخیرے سے بجلی تیار کرنے کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے لیکن تھر چوں کہ میدانی علاقہ ہے لہٰذا وہاں زیرِ زمین کان کنی کی جگہ کھلے گڑھوں کی کھدائی سے کوئلہ نکالا جارہا ہے۔

سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ کان کا مالک پہاڑ اپنے نام الاٹ کروا لیتا ہے لیکن خود کام کروانے کے بجائے یہ کان کسی ٹھیکے دار کو دے دیتا ہے۔ یہ ٹھیکے دار آگے ایک اور ٹھیکے دار کو دے دیتا ہے۔ ان ٹھیکے داروں کو کان کنوں کی صحت اور حفاظت سے زیادہ فکر پیسہ کمانے کی ہوتی ہے۔ وہ کسی قسم کے حفاظتی انتظامات پر پیسہ خرچ کرنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں۔ اگر مالکان خود اپنی نگرانی میں کام کروائیں تو شاید صورت حال اتنی بدتر نہ ہو۔

کان مالکان، کان کن کو فی ٹن 700 روپے دیتے ہیں جبکہ یہ ایک ٹن کوئلہ مارکیٹ میں 8 ہزار سے 13 ہزار تک میں فروخت ہوتا ہے۔ مزدوروں کو جمعے کے جمعے ادائیگی ہوتی ہے جو کھانے پینے کے پیسے کاٹ کر بمشکل 2 سے 3 ہزار روپے بنتے ہیں۔

یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی کا آغاز 1873ء میں ہوا تھا لیکن اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی اس کا طریقہ کار وہی ہے، کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ بلوچستان کی 5 ہزار کانوں سے سالانہ 20 ہزار ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔ کان کنوں کو نہ جدید آلات میسر ہیں اور نہ ہی حفاظتی قوانین سے آگاہی ہے۔

بلوچستان کی سور رینج میں کوئلے کی ایک کان میں سپروائزر ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے کی نشاندہی کر رہا ہے — فوٹو مختار آزاد

جدید آلات نہ ہونے کے باعث ان مزدوروں کو محنت بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے اور جان کا خطرہ الگ ہوتا ہے۔ یہ کوئلے کی کانیں ایک ہزار فٹ سے لے کر 5 ہزار فٹ تک گہری ہیں۔ حکام کے نزدیک یہی حادثات کی اصل وجہ ہے۔ محکمہ معدنیات بلوچستان نے 140 ایسی ہی کانوں کو بند کرنے کے نوٹس دیے تھے مگر کان مالکان کے بااثر ہونے کی وجہ سے بیشتر کانیں بند نہ ہوسکیں۔

کوئلے میں کروڑوں سال کی شمسی توانائی محفوظ ہے جو اسے جلانے پر خارج ہوتی ہے۔ تاہم اس عمل کے دوران بھاری دھاتوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ و میتھین کی کثیر مقدار بھی فضا میں خارج ہوتی ہیں۔ اسی لیے یہ ماحول اور آب و ہوا اور صحت کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ زمین سے کوئلہ نکالنے کے اثرات بہت زیادہ ہیں، چاہے وہ کھلی کان ہو یا زیرِ زمین کان، دونوں صورتوں میں کوئلے کی کان کنی ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے، پانی کو آلودہ کرتی ہے، گھروں کو تباہ کرتی ہے اور پورے قصبوں اور گاؤں کی ایک سے دوسری جگہ جبری منتقلی کی وجہ بھی بنتی ہے۔

دیگر صنعتوں کے مقابلے میں کان کنی کی کمپنیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کہیں زیادہ الزامات ہیں۔ جون رگی (John Ruggie)، جو 2005ء سے 2011ء تک اقوامِ متحدہ میں بطور خصوصی نمائندہ برائے کاروبار و انسانی حقوق خدمات انجام دیتے رہے، انکشاف کرتے ہیں کہ ان کے دفتر میں موصول ہونے والی تمام شکایتوں میں سے 28 فیصد تیل، گیس اور کان کنی کی کمپنیوں کے خلاف تھیں۔

کوئلے کی زیرِ زمین کانیں خاص طور پر حفاظتی اقدامات میں کوتاہیوں اور کام کرنے والوں کے لیے ناقص حالات کا نشانہ ہیں۔ رگی کہتے ہیں کہ کھلی کانیں (اوپن کاسٹ مائنز) غذا اور پانی کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور مقامی رہائشیوں کو ان کی وجہ سے جبری منتقلی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ہمارا سیارہ کوئلے کی ہزاروں کانوں سے اٹا پڑا ہے۔ ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں کوئلے کی سب سے بڑی کان 'نارتھ اینٹیلوپ روشیل مائن' ہے جو ریاست ہائے متحدہ امریکا کے مغربی حصے میں ریاست وایومنگ میں واقع ہے۔ اندازہ ہے کہ صرف اس ایک کان میں 2 ارب 30 کروڑ ٹن کوئلہ موجود ہے۔ یہاں سے ہر سال 10 کروڑ ٹن سے زائد مقدار میں کوئلہ نکالا جاتا ہے جبکہ اس میں (کان کنی کے لیے بنائے گئے) کھلے گڑھے کا رقبہ 250 مربع کلومیٹر ہے۔

پڑھیے: کوئلے کا لولی پاپ

دوسری سب سے بڑی کان اندرونی منگولیا، چین میں ہے جو ’ہائرووسو مائن‘ کہلاتی ہے۔ تخمینے کے مطابق اس کان میں 1 ارب 70 کروڑ ٹن کوئلہ دفن ہے جبکہ اس سے کوئلے کی 2 کروڑ ٹن پیداوار سالانہ حاصل ہوتی ہے۔ رقبے میں یہ 67 مربع کلومیٹر وسیع ہے۔ علاوہ ازیں آسٹریلیا، کولمبیا، انڈونیشیا، موزمبیق، روس اور جنوبی افریقہ میں بھی اسی طرز پر کوئلے کی بڑی بڑی کانیں (میگا مائنز) دیکھی جاسکتی ہیں۔

2012ء میں اندازاً 70 لاکھ افراد کوئلے کی صنعت سے وابستہ تھے، جن میں سے بیشتر کا تعلق کوئلے اور لگنائٹ کی کان کنی سے تھا۔ اب یہ تعداد کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک بجلی بنانے کے لیے کوئلے کے بجائے صاف ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور کوئلے کا استعمال کم سے کم ہوتا جارہا ہے۔

کان کنوں کو اوپر نیچے لانے لے جانے کے لیے لفٹ — فوٹو مختار آزاد

پاکستان میں کوئلے کی کانوں میں بڑھتے ہوئے حادثات اس شعبے میں تبدیلی کا تقاضا کررہے ہیں۔ اس حوالے سے ہر سطح پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ سلطان محمد خان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وہ جلد ہی 'بلیک ڈے' منانے والے ہیں، ان کا یہ احتجاج کانوں کے مالکان، وزارت برائے کان کنی اور وزارت برائے انسانی ترقی کے خلاف ہے۔

سلطان محمد کا مزید کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے کنونشن C-176 کی توثیق کی جائے۔ یہ مزدوروں کی صحت و سلامتی کا قانون ہے اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے کان کنوں کی حق تلفی بند کی جائے اور دیگر صوبوں کی طرح کسی مزدور کی ہلاکت پر اس کی جان کا معاوضہ اس کے ورثا کو 5 لاکھ ادا کیا جائے (بلوچستان میں یہ معاوضہ 2 لاکھ ہے)۔

اس کے علاوہ کان میں کام کرنے والے کان کن حادثات یا کان کنی سے لگنے والی مختلف بیماریوں کے باعث کم عمری میں انتقال کرجاتے ہیں، ان کی موت سے لے کر ان کی عمر 55 (قابلِ پنشن) ہونے تک انہیں کم از کم پنشن کی ادائیگی کی جائے۔ کان کے مالکان کی جیب سے پیسہ نکلے گا تو شاید وہ حفاظتی اقدامات پر توجہ دیں گے اور غریب مزدوروں کی جان کی حفاظت ہوسکے گی۔

Read Comments